سر زمین مقدس کے تقدس کی پامالی

ڈاکٹر فرخ شہزاد

یہ سر زمین مقدس ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ (اللہ کا گھر) تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اس گھر کو قیامت تک کے لیے اپنی نشانی کے طور پر قائم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اللہ کے آخری نبی اور محبوب ترین رسول حضرت محمدﷺ کو بھی اسی سر زمین پر مبعوث کیا گیا اور یوں اس سر زمین کو قیامت تک کے لیے سر چشمہ ہدایت بنادیا گیا۔ ہونا تویہ چاہیے تھا کہ اس سر زمین کے تقدس کو ہمیشہ برقرار رکھا جاتا لیکن ہوا یہ کہ اللہ ہی کے نام لیواؤں نے کئی بار اس کے تقدس کو پامال کیا اور یہاں خون بہاتے رہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اس سر مین کے بارے میں ارشاد فرمایا ” لوگو ! شیطان اب اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری اس سر زمین پر آئندہ کبھی بھی اس کی عبادت کی جائے گی لیکن یہ ممکن ہے کہ اس سے کم درجہ میں اس کی اطاعت کی جائے، سو اب وہ تمہارے انہی اعمال (گناہوں) پر مطمئن ہو چکا ہے جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو۔ پس اپنے دین کے معاملے میں چوکنے رہو” ۔ ہم پرانی تاریخ کا ذکر نہیں کریں گی البتہ آل سعود کی حکمرانی کے حالات بیان کریں گے۔ آل سعود سے پہلے یہاں بد امنی کا راج تھا اور شیطان خوش و خرم تھا۔ آل سعود نے ایک طرف اسلامی سزائیں نافذ کیں تو دوسری طرف فحاشی کے دروازے کھلنے نہ دئیے۔ شراب نوشی پر پابندی تھی۔ شراب خانے اور قمار خانے دونوں ہی غیر موجود تھے۔ شاہ فیصل کے زمانے میں یہاں کافی حد تک اسلامی حکومت نافذ ہو گئی اور دنیا بھر کے مسلمان اس سر زمین کو رشک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ شیطان کی پروردہ طاقتوں نے شاہ فیصل کو شہید کر وا دیا لیکن ان کے بعد بھی کسی حکمران کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ شیطان کا کھیل کھیلنے کی کوشش کرے۔ مغرب کے لیے اس سر زمین پر حملہ کرکے شریعت کے نظام کو ختم کرنا مشکل تھا چنانچہ انہوں نے یہاں شیطان کا راج قائم کرنے کا بندوبست کیا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے کل قرضوں سے کئی گنا زیادہ رقم جوا خانوں، شراب خانوں، ناچ گھروں، سینما اور ساحل سمندر پر کیسینوز کی تعمیر پر خرچ کی جا چکی ہے۔ ایک ایسا ساحل شہر تعمیر کیا گیاہے جہاں اسلامی کلچر کی بجائے مغربی کلچر کا راج ہے۔ یہ شہر عریانیت اور زناکاری کا گڑھ ہے۔ اس شہر کے علاوہ جدہ اور دوسرے بڑے شہروں میں بھارت سے اداکاروں، ڈانسروں اور نیم عریاں ہوکر ناچنے والوں کو بلا کر پروگرامز ترتیب دئیے جا رہے ہیں جن میں ہزاروں افراد کی شرکت کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ننگے ناچنے والوں نے سعودی پرچم اٹھائے ہوئے ہیں جس پر کلمہ طیبہ درج ہے۔ اسلام کی آمد سے لے کر آج تک کبھی کلمہ طیبہ کی ایسی بے حرمتی نہ دیکھی تھی۔ بھارت کی فلم انڈسٹری کے کرتا دھرتا سعود ی عرب آکر اس ملک سے کروڑوں ڈالر سمیٹنے کے معاہدے کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ بھارت کے ثقافتی طائفوں نے سعودی عرب پر یلغار کر دی ہے بلکہ اس سے دفاعی معاہدے بھی کئے جا رہے ہیں۔
بھارت کے علاوہ اسرائیل سے خفیہ تعلقات پرورش پا رہے ہیں اور جس شہر کی تعمیر کا اوپر ذکر کیا گیا وہ یہودی ذہن کی اختراع ہے۔ یہ شہر اسرائیل سرحد کے نزدیک ہی تعمیر کیا گیا ہے۔ تیسری طرف امریکہ بہادر کی منشاء کے مطابق تعلیمی نصاب تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس نصاب سے اسلام کی اہم ترین معلومات کو ختم کیا جا رہا ہے۔ بڑے بڑے اسلامی اسکالرز کی کتابوں پر پابندی لگ چکی ہے۔ احادیث پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کا سعودیہ میں داخلہ بند ہے اور اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نماز کے دوران دوکانیں بند کرنے کا حکم واپس لے لیا گیا ہے۔
مقدس سر زمین پر ایک طرف لہو و لعب کا دور دوراں ہے تو دوسری طرف عرب اتحاد نامی ایک فوج تشکیل دے کر ملک یمن پر حملہ کر دیا گیا اور کئی سالوں سے اس ملک پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر کے شہر تباہ ہو گئے۔ ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے۔ ساری دنیامیں کوئی نہیں جو اس ظلم کی خبر دے یا اس کے خلاف آواز بلند کرے یا مظلوموں کی مدد کرے۔ اس جنگ نے سعودیہ کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ہم بلا جھجک کہہ سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں ابلیس رقص کر رہا ہے اور مقدس سر زمین ہنود ویہود ونصاریٰ کے نرغے میں ہے۔ یہ انتہائی دُکھ کی بات ہے کہ اسلامی دنیا میں کوئی بھی اس کے خلاف زبان کھولنے پر آمادہ نہیں۔ کوئی بھی اسلامی ملک یا مسلمان اینکریا تجزیہ نگار ان حالات کا ذکر نہیں کرتا۔ ہمیں اپنی زبانوں پر لگے تالے کھولنے چاہییں اور سچائی کا اظہا رکرنا چاہیے چاہے اس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے فحاشی پھیلانے والوں کو دردناک عذاب کی نوید دی ہے۔ یہود و ہنود و انصاریٰ کے اشاروں پر ناچنے والے مت بھولیں کہ اگر اللہ نے عذاب کا کوڑا برسا دیا تو یہ قومیں ان کے کسی کام نہ آسکیں گی۔