جنگ نے یوکرین کی معیشت مفلوج کر دی.

کیف (نیوزڈیسک) – جنگ نے یوکرین کی معیشت (Ukraine Economy)مفلوج کر دی۔ عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ یوکرین میں بے روزگاری عروج پر پہنچ گئی۔

یوکرین کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔ روس اور یوکرین کی فوجیں ایک دوسرے پر تاک تاک کے نشانے لے رہی ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق جنگ کے باعث 48 لاکھ نوکریں ختم ہو گئیں۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے دعوی کیا ہے کہ خارکيف ميں چند مقامات پر روسی فورسز کو پیچھے دھکيل ديا گیا جبکہ شمالی گاؤں پیتومنیک پر سے روسی قبضہ چھڑا لیا گیا ہے۔

ادھر یوکرین نے مغربی یورپ کو جانے والے روسی گیس کی سپلائی بند کر دی ہے۔ اہم ٹرانزٹ روٹ نووپسکوو کی بندش سے یورپ میں گیس کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

دوسری طرف روس نے یامال گیس پائپ لائن کے پولش حصے کے مالک پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جبکہ روسی گیس کمپنی اور گیز پروم نے جرمن یونٹ پر پابندیاں لگا دیں۔ جرمن یونٹ یورپ کیلئے گیس سروسز فراہم کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے یوکرین جنگ کی وجہ سے خوراک کا بحران بڑھ رہا ہے ۔ افریقہ سمیت کئی ممالک میں بھوک بڑھنے کا خطرہ ہے ۔ صورتحال برقرار رہی تو دنیا بھر میں خوراک کا بحران آ سکتا ہے۔

دوسری طرف یورپی یونین نے یوکرین کی تعمیر نو کیلئے مارشل پلان کی حمایت کر دی ۔ یورپین انوسٹمنٹ بینک کے صدر ورنر ہوئر کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اکیلے اتنی بڑی رقم کا انتظام نہیں کر سکتی۔ پوری دنیا کو حصہ ڈالنا چاہیے ۔