موبائل اور انٹرنیٹ کا جادو اور اس کا توڑ، ڈاکٹر فرخ شہزاد

ڈاکٹر فرخ شہزاد

واٹس ایپ اور فیس بک نے دنیا ہی بد ل کر رکھ دی ہے۔ ساری دنیا کے افراد ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوگئے ہیں جیسے وہ آپس میں جڑے ہوئے بیٹھے ہوں۔ یعنی سماجی فاصلہ بھی ختم ہو گیا اور باقی ہر قسم کا فاصلہ بھی۔ کوئی بھی آواز، کوئی بھی تصویریا کوئی بھی ویڈیو ، آپ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ ایک زمانہ میں الٰہ دین کے چراغ کی کہانیاں سنتے تھے جب الٰہ دین چراغ کو رگڑتا تھا تو جن حاضرہوجاتا تھا اور وہ سارے کام کرتا تھا جو آج سوشل میڈیا پر انجام دئیے جا رہے ہیں۔ آج جن نے انڈرائیڈ فون کی شکل اختیار کر لی ہے۔ آج سے چند سال پہلے کسی نے سوچا تھا کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون پر اتنا بڑا انقلاب برپا ہو جائے گا ؟ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ سب ناقابل یقین ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پرانے زمانے کے لوگ اگردوبارہ زندہ کر دئیے جائیں اور وہ آج کی ترقی یافتہ دنیا کی سائنسی ایجادات دیکھ لیں تو سب کے سب بے ہوش ہو جائیں گے بلکہ سب کے دل دوبارہ بند ہو جائیں گے۔

انٹر نیٹ کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ فائدہ یہ ہے کہ اہم معلومات اور دستاویزات باآسانی دوسروں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ یہ معاملہ جھٹ پٹ ہو جاتا ہے۔ اگر نقصانات کی طرف آئیں تو یہ گنتی میں نہیں آ سکتے۔ انٹرنیٹ لوگوں کو اس طرح اپنی طرف کھینچتا ہے جیسے مقناطیس۔ اس سے جان چھڑانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کسی دھات کا مقناطیس سے علیحدہ کرنا۔ جہاں جائیں جسے دیکھیں ہاتھ میں موبائل پکڑے بیٹھا ہے اور موبائل کی اسکرین پر اس کی انگلیاں ناچ رہی ہیں۔ گھر کے افراد ایک دوسرے سے بیگانہ ہوتے جارہے ہیں۔ موبائل سے جان چھوٹے تو ایک دوسرے کو دیکھیں۔ گوگل اور دوسرے سرچ نیٹس نے لوگوں کو دیوانہ کر دیا ہے۔ گوگل پر سرچ کرو، یوٹیوب پر سرچ کرو اور جو جائز و ناجائز دیکھنا ہے دیکھ لو۔ بچے اور بچیاں وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں جو انہیں برباد کرنے کیلئے کافی ہے۔ بے راہ روی کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ بچیاں بھٹکتی ہیں اور پھر بلیک میل ہوتی رہتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے پاس ایسی بچیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں جو اس چنگل میں پھنس جاتی ہیں اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر نفسیات کے ماہرین کا رخ کرتی ہیں۔ گند اورغلاظت دیکھنے کے بعد بچے اور بچیاں اس کا عملی مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں اور یوں تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ شیطان نے سمارٹ موبائل کا روپ دھار لیا ہے۔ اسے کسی پر حملہ آور ہونے کی ضرورت نہیں۔ لوگ خود اس کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں۔ لوگ موبائل کے سحر میں مبتلا ہو کر وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو شیطان کروانا چاہتا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ دودھ پیتے بچے موبائل ہاتھ سے چھوڑنے کو تیار نہیں۔ وہ ٹچ کے مراحل کو جان چکے ہیں اور نظر آتی ہوئی تصویروں میں گم ہو جاتے ہیں۔ بڑے بچے دیوانہ وار گیمز کھیل رہے ہیں، بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے اور وہ گمراہ بھی ہو رہے ہیں۔

انٹرنیٹ کی وجہ سے کتابیں اور لائبریریاں ناکارہ ہوتی جا رہی ہیں۔ وہ تمام لوگ جو کتب بینی کے شوقین تھے نیٹ سے اپنا مطلوبہ مواد نکال کر اپنا شوق پورا کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پبلشرز پریشان ہیں کہ کریں تو کیا کریں؟ گھروں میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ میاں کی زیادہ توجہ موبائل کی طرف رہتی ہے اور یہ چیز گھریلو تعلقات میں ناچاقی کا سبب بن رہی ہے۔ وہ نگاہیں اور توجہ جوخاوند نے بیوی پر مرتکز کرنی تھی موبائل پر مرتکز رہتی ہیں۔ نتیجتاًجھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر بیگم موبائل دیکھ رہی ہو تو خاوند بھی اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ بڑے، بوڑھے، اولاد اور چھوٹوں کی عدم توجہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یوں اولاد بزرگوں کی دعائیں لینے کی بجائے ان کی ناراضگی مول لے رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بزرگ بھی ہاتھوں میں موبائل پکڑے بیٹھے ہیں اور ان کو وقت گزارنے کا ایک آسان طریقہ میسر آگیا ہے۔ بچے پب جی گیم دیکھ کر بھٹک رہے ہیں۔ اگر ایسی گیمز پر پابندی لگا دی جائے تو ماں باپ اور میڈیا دونوں ہی چیخنے لگتے ہیں اور پابندی ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا نیٹ کے بغیر زندگی گزاری جا سکتی ہے؟ کیا واٹس ایپ اور فیس بک کو الوداع کہا جا سکتا ہے؟ ان دونوں سوالات کے جوابات تفصیل طلب ہیں۔ جہاں تک انٹرنیٹ کا تعلق ہے تو یہ تعلیم کے حصول کا لازمی ذریعہ بن چکا ہے اس کے بغیر تعلیم کو جاری رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نیٹ پر علمی معلومات کے علاوہ جو کچھ دکھایا جا رہا ہے اس سے کس طرح نجات حاصل کی جائے۔ بظاہر اس کا ایک ہی حل نظر آتا ہے کہ ماں باپ بچوں کی طرف خصوصی توجہ دیں۔ وہ ان کے ساتھ گپ شپ لگائیں۔ گھر سے باہر گزرے ہوئے اوقات کے واقعات اوریادیں سنائیں۔ انہیں سیرو تفریح کے لئے لے جاتے رہیں۔ انہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کریں۔ ان میں قرآن کی تعلیمات اور احادیث پڑھنے کا شوق پیدا کریں اور ہر بچے کو سیرت النبیﷺ کی کوئی آسان کتاب اور آداب زندگی پر مبنی کتاب پڑھنے کو دی جائے۔ بعض اوقات صرف توجہ دلانے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے ذریعے بہت سے بچوں کے ذہن تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ بڑی عمر کے لوگ انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال سے کس طرح جان چھڑائیں۔ جان تو چھڑائی نہیں جا سکتی البتہ نیٹ کے استعمال میں کمی کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ نیٹ والا موبائل گھر میں رکھا جائے اور گھر سے باہر سادہ موبائل استعمال کیا جائے۔ اس طرح کم از کم آپ گھر سے باہر انٹرنیٹ سے آزاد ہو جائیں گے۔ گھر میں داخل ہونے کے بعد سمارٹ موبائل سے خود کو دور رکھیں۔ اگرچہ اس کی مقناطیسی قوت آپ پر حملہ آور ہو گی۔ ان مقناطیسی لہروں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ سادہ موبائل کو ہاتھ میں پکڑے رہیں اور یہ جاننے کی کوشش نہ کریں کہ کیا کیا موصول ہو چکا ہے؟ ہو سکتا ہے شروع شروع میں یہ سب کچھ کرنا ناممکن دکھائی دے لیکن اپنی قوت ارادی کو بڑھاتے جائیں گے تو آہستہ آہستہ یہ مقناطیسی قوت پر حاوی ہو جائے گی اور موبائل یا انٹرنیٹ کے طلسم میں کمی آتی جائے گی۔ اگر دل و دماغ میں یہ بات راسنح ہو جائے کہ جو وقت موبائل کو دینا ہے وہی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی یاد میں صرف اورکرنا ہے تو یہ بات بہت سود مند ثابت ہو گی۔ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ دن میں دو بار گھڑی میں وقت دیکھ کر پور ے دس منٹ تک کے لئے موبائل کو خدا حافظ کہنا ہے تو مسئلہ کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہاتھوں کو گیلا رکھنے سے بھی موبائل سے فاصلہ رکھنے کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اب موبائل کے جان لیوا نقصان کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ ہے سیلفی بنانے کا جنون۔ اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جہاں موقع ملتا ہے سیلفی بنانے لگتے ہیں۔ جب آپ خود مجسم تصویر ہیں تو سیلفی بنانے کا کیا مقصد ہے؟ کتنے ہی لوگ سیلفی بنانے کے جنون میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھےاور ان کے گھر اجڑ گئے۔ اندازہ لگائیے کہ انٹرنیٹ اور موبائل کتنے ہی پہلوؤں سے گھروں کو برباد کر رہا ہے اور اس بربادی سے بچنے کا کوئی سامان نظر نہیں آرہا۔ سچ تو یہ ہے کہ انٹر نیٹ اور موبائل کے طلسم سے نکلنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی۔ جائیں تو کہاں جائیں؟