ہم پر لازم ہے کہ رب کا شکر ادا کریں

ڈاکٹر فرخ شہزاد

ہم اللہ کی بے شمار نعمتوں کو جھٹلا نہیں سکتے۔ ہم پرلازم ہے کہ رب کا شکرادا کرتے رہیں۔ صبح جب ہم نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو ہم عارضی موت کا مزہ چکھنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتے جاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو رات کو سوئے اور صبح زندہ نہ ہو سکے کیونکہ رب نے انہیں واپس بھیجنے کی بجائے اپنے پاس بلا لیا۔ پس ہم پر لازم ہے کہ ہر صبح رب کا شکر ادا کریں جو روزانہ ہی ہمیں زندگی لوٹا تا ہے۔
ہم صبح اٹھ کرشکم سیر ہو کر کھاتے ہیں، دوپہر اور رات کو بھی اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق انواع و اقسام کے کھانوں سے پیٹ بھرتے ہیں۔ اللہ کے بے شمار بندے ہیں جو ان نواع و اقسام کے کھانوں سے محروم ہیں، وہ روکھی سوکھی کھاتے ہیں یا انہیں روکھی سوکھی بھی میسر نہیں۔ کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس پر اپنے رب کا شکر ادا کریں؟
ہمیں رہنے کے لئے ایک گھر میسر ہے۔ یہ گھر ہر طرح کی سہولتوں سے آراستہ ہے۔ گرمیوں میں گھر کو ٹھنڈا رکھنے کا انتظام ہے اور سردیوں میں گرم رکھنے کا۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے پاس رہنے کو گھر نہیں، وہ کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں یا چھوٹے چھوٹے ذاتی گھروں میں کئی کئی افراد رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ہماری جیسی گھریلو سہولتوں سے محروم ہے۔ کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس پر اپنے رب کا شکر ادا کریں؟
اللہ تعالیٰ نے ہمیں زرق کی فراوانی عطا کر رکھی ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ خرچ کرنے کے بعد بھی ہمارے پاس رقم بچ جاتی ہے۔ ہم اسے جمع کرتے رہتے ہیں یا انویسٹ کرتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے پاس رقم جمع کرنا تو دُور کی بات ہے اپنی آمدنی سے اپنے خرچے بھی پورے نہیں کر پاتے اور اپنے مالی مسائل کو حل کرنے کے لئے قرض لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس اللہ نے ہمیں اوپر والا ہاتھ عطا کر رکھا ہے جو دینے کی طاقت رکھتا ہے اور اسے دوسروں سے لینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس پر رب کا شکر ادا کریں؟ ہم اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق جو چیز چاہتے ہیں خرید لیتے ہیں۔ بے شمار لوگ ایسے ہیں جو بہت کچھ خریدنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس پر رب کا شکر ادا کریں؟
ہمیں ذاتی سواری میسر ہے ہم اس پر سوار ہو کر جہاں جی چاہتا ہے روانہ ہو جاتے ہیں۔ بے شمار لوگ ایسے ہیں جو پیدل چلنے پرمجبور ہیں یا انہیں کہیں آنا جانا ہو تو وہ بسوں، ویگنوں یا چنگ چی میں دھکے کھا رہے ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر کیا ہم پرلازم نہیں کہ ہم اس پر رب کا شکرادا کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اولاد کی نعمت عطا کررکھی ہے جو ہماری فرمانبردار ہے جو بڑھاپے میں ہمارا سہارا بنتی ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ وہ دوسروں کے سہارے کے محتاج رہتے ہیں۔ ان کے گھر اجڑے دیار بنے ہوئے ہیں۔ ان اجڑے گھروں کو دیکھ کرکیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس پر رب کا شکر ادا کریں؟ ہمارے بچے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ہم نے انہیں ہر طر ح کی سہولیات مہیا کر رکھی ہیں۔ کتنے ہی گھرانے ہیں جن کے بچے سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہ ان سہولیات سے بھی محروم ہیں جو ہمارے بچوں کو حاصل ہیں۔ انہیں دیکھ کر کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس پر رب کا شکر ادا کریں؟
اگر ہم کسی ہسپتال کا چکر لگائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔ بہت سے درد اورتکلیف میں کراہ رہے ہوتے ہیں۔ کتنے ہی معذورہو چکے ہوتے ہیں ہم تندرست و توانا ہیں، چل پھر رہے ہیں، بیماریوں سے محفوظ ہیں۔ کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس پر رب کا شکر ادا کریں؟ اگر ہم کبھی بیمار پڑجائیں یا ہمارے بچوں پر کوئی بیماری حملہ کر دے تو ہم یہ استطاعت رکھتے ہیں کہ اپنا یا اپنے بچوں کا بہترین ہسپتالوں /جگہوں سے علاج کروا سکیں جبکہ اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بیمار ہو جائیں تو سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہوتے ہیں جہاں مریضوں کا اژدھام ہوتا ہے۔ وہاں معیاری طبی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ ان بے کس اورلاچار لوگوں کو دیکھنے کے بعد کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس پر رب کا شکر ادا کریں؟
اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ توفیق عطا کر رکھی ہے کہ ہم باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں، رمضان میں روزے رکھتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، حج کی استطاعت رکھتے ہیں اوراکثر حج ادا کرچکے ہیں۔ اللہ کے بے شمار بندے ہیں جو نماز نہیں پڑھتے، جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، اگر طاقت رکھتے ہیں تو بھوک اور پیاس کا خوف انہیں روزہ نہیں رکھنے دیتا۔ بے شمار ہیں جو زکوٰۃ ادا کرنے کے اہل ہیں لیکن انہیں اس فریضے کی ادائیگی کا احساس نہیں ہے۔ اسی طرح بہت سے حج کی استطاعت نہیں رکھتے اگر استطاعت ہو تو تب بھی وہ فوری طور پر اس فریضے کو ادا کرنے کے خیال سے محروم ہیں۔ ان سب کو دیکھ کر کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس پر رب کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں عبادت کا احساس عطا کر رکھا ہے اوراس احساس کوعملی جامہ پہنانے کی توفیق عطا کر رکھی ہے؟ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں آخرت سنوارنے کی فکرسے بھی نوازا ہوا ہے۔ کیا یہ اس کا چھوٹا سا احسان ہے کہ وہ ہمیں دوزخ کی آگ سے بچانے کا انتظام بھی کر رہا ہے۔ شیطان چہار سو سے ہم پر حملہ آور رہتا ہے۔ ہمارے ارد گرد ایسے لوگ موجود ہیں جو شیطان کے بہکاوے کا شکار ہو کر مسلسل برائیوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم برائیوں سے بچے ہوئے ہیں تو یہ اللہ ہی ہے جو ہمیں شیطان سے اپنی پناہ میں لیے ہوئے ہے۔ ہم پرلازم ہے کہ ہم اس پر رب کا شکر ادا کریں۔ ہمارے بچے برائیوں سے بچے ہوئے ہیں وہ اپنی تعلیم پر بھر پور توجہ دے رہے ہیں۔ اللہ نے انہیں بھی شیطان سے بچا رکھا ہے اور ہمارا تابعدار بنایا ہوا ہے۔ پس ہم پر لازم ہے کہ رب کا شکر ادا کریں۔ ہمارا صبح سے لے کر رات تک کا وقت اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے سائے تلے گزر رہا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جنہیں پریشانیاں گھیرے رکھتی ہیں۔ ان میں عالمی پریشانیاں بھی ہیں اور دوسری پریشانیاں بھی اللہ ہمیں ان سب سے بچائے ہوئے ہے۔ ہم ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں اور ہمارے بچے بھی ایسا کر رہے ہیں۔ ہم اللہ کی بے شمار نعمتوں کو جھٹلا نہیں سکتے۔ پس ہم پر لازم ہے کہ ہم رب کا شکر ادا کریں۔ وہ تمام بہتر حالات جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا اگر وہ تمام کے تمام بھی ہمیں میسر نہیں ہمیں تب بھی اللہ کا شکرادا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ ہم ہزاروں اور لاکھوں سے بہترحالت میں ہیں۔
رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں اور اس کے بعد مسلمان جہاد کرتے رہے۔ خود اللہ کے رسول ﷺ اس راہ میں زخمی ہوئے۔ ہمیں جہاد کی سختیاں جھیلنی پڑرہی ہیں اور نہ ایمان کے راستے میں کوئی تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے۔ ہم مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے یوں ہمیں ایمان کی دولت ورثے میں مل گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے ہمیں یہ دولت عطا کی۔ پس ہم پرلازم ہے کہ ہم رب کا شکر اد اکریں۔
ذرا بھارت، کشمیر، فلسطین، برما، افغانستان، شام اور دوسرے محکوم ملکوں کے مسلمانوں کو دیکھئیے، ان پر کیا بیت رہی ہے۔ ہم آزاد ملک میں آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم رب کا شکر ادا کریں۔ اللھم لک شکر ولک الحمد۔ ترجمہ: اے اللہ تیرا شکر ہے تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔