بنی اسرائیل سے موجودہ مملکت اسرائیل تک

ڈاکٹر فرخ شہزاد

ہم جب بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا ایمان مزید قوت پکڑتا ہے، ہم پر حق مزید واضح ہوتا چلا جاتا ہے، اللہ کے وجود پر یقین میں اضافہ ہو تا ہے اوررسول اکرم ﷺ کی رسالت پر ہمارا ایمان مزید پختہ ہونے لگتا ہے۔
اسرائیل کا مطلب ہے اللہ کا بندہ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام یا لقب تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل میں ابنیاء کو مبعوث کیا گیا اور یوں جس اُمت کا سلسلہ شروع ہواوہ بنی اسرائیل (یعنی اسرائیل کی نسل کہلاتے ہیں)۔ حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ ان کے بعد بنی اسرائیل میں جو انبیاء مبعوث ہوئے ان میں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت زکریاعلیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء شامل ہیں۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کا مسکن فلسطین میں تھا۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے فرماں روا بنے تو حضرت یعقوب علیہ السلام کا خاندان مصر منتقل ہو گیا۔ بنی اسرائیل پانچ سو سال مصر میں مقیم رہے حتیٰ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت پر مبعوث کیا گیا۔ اس وقت مصر میں فرعونوں کی حکومت تھی۔ جب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو ختم کرنے کی تیاری کرلی تو اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر سمندر کی طرف چل دئیے۔ انہوں نے اپنا عصا سمندر میں مارا تو وہ درمیان سے خشک ہو گیا۔ ان کی قوم خشک حصے پر چلتی رہی اور جب فرعون کی فوجیں اس حصے میں داخل ہوئیں تو سمندر ان پر چڑھا دیا گیا اور یہ فوجیں سمندر برد ہو گئیں۔ اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بنی اسرائیل کا ایمان غیر متزلزل ہو جاتا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھر پور ساتھ دیتے لیکن ہوا کیا۔ ہوا یہ کہ جب یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ 40سال تک صحرائے سینہ میں مقیم رہے تو اس دوران یہ اُمت مسلسل نافرمانیاں کرتی رہی اور آپ کو دُکھ پہنچاتی رہی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر بلایا تو ان کی غیر موجودگی میں اس قوم نے ایک مصنوعی بچھڑے کی پرستش شروع کر دی۔ اس کے بعدبھی اس اُمت کی اکثریت شرک اور بد اعمالیاں کرتی رہی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یہ قوم فلسطین منتقل ہو گئی اور اسے مسکن بنا لیا۔ یہیں پر حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ ان انبیاء نے یروشلم کو مرکز بنایا۔ مسجد اقصیٰ حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانے میں تعمیر ہوئی۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر حضرت داؤ د علیہ السلام کے دور میں شروع ہوئی اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے مکمل کیا۔ اس وقت اللہ کے حکم سے مسجد اقصیٰ کو قبلہ قرار دیا گیا۔ ان انبیاء کے دور میں اور ان کے بعد بھی بنی اسرائیل شرک بھی کرتے رہے، زناکاریاں اور بداعمالیاں بھی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کردہ تورات میں من پسند ترامیم کیں اور حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل کردہ زبور کو بھی بدل ڈالا۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر تہمتیں لگائیں۔ بعد میں بنی اسرائیل دو مملکتوں مین تقسیم ہو گئے اور ایک دولت اسرائیل اور دوسری دولت یہودیہ۔ یہ دونوں ریاستیں آپس میں لڑتی رہیں اور جو انبیاء یہاں مبعوث ہوتے رہے ان کے پیغام پر عمل کرنے اور ان کا ساتھ دینے کی بجائے ان پر ظلم کیا جاتا اور انہیں قتل کر دیا جاتا رہا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غیر قوموں کے حملوں کی صورت میں ان پر عذاب نازل کیا ان قوموں نے ان ریاستوں کو تہس نہس کر دیا۔ یروشلم اور ہیل سلمانی کو تباہ کر دیا گیا۔ ان حملوں میں لاکھوں بنی اسرائیل ہلاک کر دئیے گئے جو بچ گئے وہ منتشر ہو گئے۔ بعد میں ایک غیر قوم کے حکمران نے انہیں دوبارہ یروشلم میں بسنے اور ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔ انہیں دوبارہ عروج حاصل ہوا تاہم بنی اسرائیل شرک بھی کرتے رہے اور اللہ کی نافرمانیوں سے باز نہ آئے حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا۔ اس وقت بنی اسرائیل پر غیروں کی حکومت تھی۔ بنی اسرائیل کی اکثریت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا۔ ظالم حکمران کو ان کی تعلیمات سے اپنے اقتدار کو خطرہ محسوس ہوا تو اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا اور اس عمل میں چند کے سوا بنی اسرائیل کی اکثریت نے حکمران کا پورا پورا ساتھ دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے کے بعد ایک بار پھر بنی اسرائیل پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور ایک غیر قوم نے دربار بنی اسرائیل پر حملہ آور ہو کر یروشلم اور ہیل سلیمانی کو دوبارہ تباہ و برباد کر دیا۔ لاکھوں بنی اسرائیل قتل کر دئیے گئے۔ جو بچ نکلے وہ وہاں سے ہجرت کر گئے اور دنیا کے دوسرے حصوں میں منتشر ہو گئے۔
2ہزار سال تک بنی اسرائیل دنیا میں منتشر رہے۔ 1880ء کے بعد انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت دوبارہ فلسطین میں آباد ہونا شروع کیا۔ آج سے 74سال پہلے جب سلطنت برطانیہ خود کو سمیٹ کو واپس برطانیہ لوٹ رہی تھی تو انہوں نے بڑے پیمانے پر یہودیوں کو فلطسین میں لا بسایا یہاں تک کہ یہودی آبادی 34فیصد کو پہنچ گئی اور عرب آبادی66فیصد رہ گئی۔ 1942ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین اور اسرائیل دو علیحدہ ریاستوں کے طور پر تسلیم کیا۔ 14مئی 1948ء کو یہودی ریاست کا باقاعدہ اعلان ہوا۔
اس بدمعاش ریاست نے فلسطین پر بھی قبضہ کر لیا۔ اسکی آزادی کو تسلیم نہ تھا اور جب سے اسے اپنا باج گزار بنائے ہوئے ہیں۔ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کرکے انہیں مٹادینا چاہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر کام کررہے ہں جس کے تحت عرب کے وسیع علاقے پر قبضہ کرکے دجال کی ریاست قائم کرنا ہے۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ پایہ تکمیل پہنچے گا لیکن آخر کار دجال کو شکست ہو گی اور یوں بنی اسرائیل ایک بار پھر اللہ کے غضب کا شکار ہو کر اپنے انجام کو پہنچیں۔
آج کے دور میں بھی بنی اسرائیل اللہ کے غضب کا شکار ہوچکے جب ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا اور انہیں دنیا کے لئے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ یہودی ہٹلر کے خلاف بھی سازشوں کے جال بننے میں مصروف تھے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ہمیشہ سے بنی اسرائیل کو تھوڑی سی تعداد اللہ کے احکامات پر عمل جبکہ اکثریت شرک، زناکاریوں اور بد اعمالیوں میں ملوث رہی۔ وہ دوسری قوموں کے مشرکانہ افعال اپنالیتے اور انہی کا رنگ روپ اختیار کر لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے پے در پے انبیاء مبعوث کئے لیکن ایک چھوٹے سے طبقے کے سوا اکثریت نے ان انبیاء کو ماننے سے انکار کیا، انہیں اذیت دی اور انہیں قتل کرتے رہے۔ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو ماننے سے انکار کیا کیونکہ ان کا تعلق بنی اسرائیل سے نہ تھا۔ ہم آج جب یہودیوں کا چل چلن اور کرتوتیں دیکھتے ہیں تو ہمیں بنی اسرائیل کی پوری تاریخ سمجھ میں آجاتی ہے۔