اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 150 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا.

کراچی (نیوز ڈیسک) – اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود ڈیڑھ پوائنٹ بڑھا کر 13.75 فیصد کردیا۔

موجودہ معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے شرح سود میں اضافہ آٓئندہ ڈیڑھ ماہ کیلئے کیا گیا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تیرہ اعشاریہ سات سات نو ارب ڈالر ہے

اعلامیہ کے مطابق بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے پالیسی ریٹ میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 13 عشاریہ 4 فیصد ہوچکی ہے، گزشتہ برس شرح سرد 12.7 فیصد تھی۔

مرکزی بینک کے مطابق گذشہ سالوں میں کوویڈ کی صورتحال اور عالمی سطح روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کے سبب عالمی سطح پر تیل اجناس اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ سے مہنگائی اور زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔

اسٹیٹ بینک اکامزید کہنا تھا لارج اسکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بہترین گروتھ دیکھی گئی تاہم اس کے اثرات درآمدی اخراجات پر بھی دیکھےگئے ہیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

نیٹرپورٹ کے مطابق جاری کھاتے کا خسارہ بدستور متعدل ہورہا ہے اور اس سال جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے لگ بھگ 4 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ حال ہی میں حکومت نے غیر ضروری درآمدی اشیاء پر پابندی عائد کی ہے جس سے آئندہ سال جاری کھاتے کا خسارہ تین فیصد تک ہونے کی توقع ہے ۔