کسی ادارے یا جج کی بجائے فیصلے پر تنقید کریں، سینیٹر علی ظفر

لاہور ( نیوز ڈیسک) – سینیٹر علی ظفر( Senator Ali Zafar) کا کہنا ہے کسی ادارے یا جج کی بجائے فیصلے پر تنقید کریں۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کوئی ادارہ اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرے تو آواز اٹھانا پارلیمنٹیرینز کا کام ہے۔ کسی قانون کی تشریح کا مطلب یہ نہیں کہ عدالتیں قانون تبدیل کر دیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیب کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا نیب کے خاتمے تک پاکستان نہیں چل سکتا۔ اس ادارے کے ہوتے ہوئے پارلیمنٹ بھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔ جوڈیشری بھی ووٹ کے تحفظ میں ناکام ہو گئی ہے۔ جولائی دو ہزار سترہ میں حکومت احسن طریقے سے چل رہی تھی پھر منتخب وزیر اعظم کو نااہل کیا گیا ۔ یہ فیصلہ کامن سینس کے مطابق ہے یہ سوال عدالت کو خود سے کرنا چاہے۔

رضا ربانی بولے کنٹرولڈ ڈیموکریسی میں اختیارات کی تقسیم کس طرح ہو سکتی ہے۔ ریاست کے تینوں ستونوں کے درمیان ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ ہمیں 70 سالوں کے بعد اب سیکھ جانا چاہیے۔ اب بھی سوچ رہے ہیں کہ نظام کیا ہونا چاہیے۔