دینی اور سیاسی جماعتوں سے گزارشات

ڈاکٹر فرخ شہزاد

آپ کا لب و لہجہ آپ کا پہلا تعارف ہے۔ انسان کی پہلی نظر دوسرے انسان کے چہرے پر پڑتی ہے اور سامنے والا جب منہ سے الفاظ نکالتا ہے تو اس کے مزاج کا تعین ہو جاتا ہے۔ اگر لہجہ نرم ہو، الفاظ میں مٹھاس ہو تو آپ ایک اچھا تاثر لیتے ہیں اور اس شخص کے بارے میں اچھی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اگر ایک انسان ہمیشہ اسی رویے کا مظاہرہ کرتا رہے تو اس کا شمار بلند اخلاق اور خوش مزاج لوگوں میں ہونے لگتا ہے۔ ایسے انسان کی سب ہی عزت کرتے ہیں اور اس کے گرویدہ بن جاتے ہیں۔ جس دن انسان غصے کے عالم میں ان صفات کو پس پشت ڈال دیتا ہے اسی دن اس کی خوبصورت شخصیت کا مجسمہ پاش پاش ہو جاتا ہے اور لوگ اپنی رائے تبدیل کر لیتے ہیں۔ لب و لہجہ کے بعد انسان کا کردار اس کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔ اگر دامن پر دھبے ہوں تو ایسا انسان باکردار لوگوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔
جہاں تک عام لیڈروں کا تعلق ہے عام آدمی ان کی چرب زبانی، غیر محتاط زبان و بیان اور چاپلوسی کے باوجود ان کے بارے میں اچھی اُمیدیں باندھے رکھتا ہے اور ان کے منہ سے نکلے ہوئے سحر کن الفاظ کے سحر میں گم رہتا ہے۔ ان لیڈروں کے کردار پر خواہ کتنے ہی دھبے کیوں نہ لگے ہوں اور ان کی زبان خواہ کتنی ہی گندی ہو اور وہ قذافی سٹیڈیم میں کھڑے ہو کر لاکھوں کے مجمع کے سامنے منہ سے غلیظ گالیاں بھی نکال دیں ان کے چاہنے والے انہیں اسی طرح چاہتے رہتے ہیں۔ ایسے لیڈروں پر ہر قسم کے الزامات لگائے جاتے ہیں لیکن مجال ہے کہ ان کے حامی ان کی حمایت سے باز آجائیں۔ وہ الزامات لگانے والوں کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ عوام کو عام سیاسی لیڈروں کی امانت، دیانت، اخلاقی بدحالی سے کوئی غرض نہیں۔
ہمارا موضوع عام سیاسی لیڈرز نہیں۔ ہم نے مذہبی سیاسی لیڈروں کے ساتھ ان کے تقابل کے طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔ ہمارا موضوع مذہبی سیاسی لیڈروں کا رویہ اور اخلاق ہے۔ جہاں تک اخلاقی بے روی کا تعلق ہے۔ مذہبی سیاسی رہنما اس سے مبرا دکھائی دیتے ہیں۔ ان پر بے راہ روی اور اخلاق باختگی کے الزامات نہیں ہیں۔ مالیاتی کرپشن میں ملوث ہونے کا احتمال ہو سکتا ہے۔ مذہبی سیاسی لیڈروں پرسب سے زیادہ قابل اعتراض معاملہ ان کی زبان اوران کا رویہ ہے۔ کسی بھی مذہبی سیاسی لیڈر کے سیاسی بیانات پڑھیں یا سنیں ان کی زبان اورعام سیاسی لیڈروں کی زبان میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ وہ مخالفین پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کبھی نپے تلے الفاظ ادا نہیں کرتے۔ وہ بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ وہ ان پرعمل پیرا نہیں ہو سکتے۔ وہ الفاظ کے نشتر چلاتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کا طریقہ غیراسلامی ہے انہیں ایساکرنا زیب نہیں دیتا اورایسا کرکے وہ اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
ہردینی سیاسی جماعت کا لیڈریہ کہتا ہے کہ صرف اس کی جماعت اسلامی نظام نافذ کر سکتی ہے حالانکہ جب بھی انہیں جزوی یا کلی طور پر اقتدار ملا تو وہ اسلامی نظام کا کوئی نمونہ پیش کر سکے نہ اسلام کی کوئی بڑی خدمت کرسکے۔ وہ عام سیاستدانوں کی طرح ہی نظام حکومت چلاتے رہے۔ جس کی بہترین مثال ماضی میں خیبر پختونخواہ میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہے جو کہ پانچ سال تک جاری رہی لیکن انہوں نے وقت گزارنے کے علاوہ کوئی کام نہ کیا، کوئی ماڈل نظام پیش کیا نہ کوئی قابل تقلید کارنامہ انجام دیا جب وہ حکومت میں تھے تب بھی بے تکے اور الٹے پلٹے بیانات جاری کرتے رہے اور مخالفین کو خوبصورت الفاظ میں جواب دینے کی بجائے ہمیشہ غیرمحتاط زبان ہی استعمال کرتے رہے۔ انہوں نے مثالی کردار کا مظاہرہ کیا نہ مثالی زبان کا۔ اگر وہ خیبرپختونخواہ کوایک فلاحی ریاست کی طرح ایک فلاحی صوبہ بنا دیتے تو اگلے الیکشن میں اقتدار سے محروم نہ ہوتے۔ لوگ انہیں بار باراقتدار سونپتے اورایک صوبہ میں مثالی کاموں کی وجہ سے ان کیلئے مرکز میں اقتدار کا راستہ ہموار ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک صوبہ میں کلی اقتدارسے نوازا لیکن انہوں نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا۔ اللہ کی عطاکردہ نعمت پراس کی ناشکری کی اورہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے لئے اقتدارکے دروازے بند کردیے۔ آج وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مدینہ کی ریاست صرف وہی قائم کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مجلس عمل کو جب خیبرپختونخواہ میں اقتدارملا تو انہوں نے وہاں مدینہ کی ریاست کیوں قائم نہ کی؟ آج وہ کس بنیاد پر دعویٰ کر رہے ہیں؟ کوئی بھی اس دعوے کو سچ نہ مانے گا۔
وقت آن پہنچا ہے کہ دینی سیاسی جماعتیں اپنے طرزعمل میں تبدیلی پیدا کریں۔ اسلام کے نام لیواؤں کو سب سے پہلے اپنی زبان اورسیاسی رویے کو اسلام کے ڈھانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ انہیں زیب نہیں دیتا کہ وہ عام سیاستدانوں والی زبان استعمال کریں اور ان جیسے رویوں کا مظاہرہ کریں۔ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کہ وہ دھرنے دیں اور راستے روکیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے حکم دیا کہ راستے میں کوئی پتھر ہو تو اسے ہٹا دو تاکہ راستہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو۔ آپ مجسم پتھر بن کر راستوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور دھرنے دیتے ہیں، گاڑیوں پر پتھراؤ کرتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں، الٹی میٹم جاری کرتے ہیں، سپلائی کا راستہ روکتے ہیں۔ آپ میں اور دوسری سیاسی پارٹیوں میں کیا فرق ہے؟
دینی سیاسی جماعتوں کیلئے اپنی ساکھ کو بحال کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے لیڈرز اپنی گزشتہ ماضی پر ندامت کا اظہار کریں۔ وہ اعلان کریں کہ آئندہ بہترین طرزعمل کا مظاہرہ کریں گے ان کا عمل اور ان کی زبان سنت رسولﷺ کےعین مطابق ہوں گے۔ وہ سیاست کریں لیکن ایسی سیاست جس پر کوئی دین مخالف انگلی نہ اٹھا سکے اورعوام ان سے بد دل نہ ہوں۔ دینی سیاست خدمت خلق خدا کے گرد گھومتی ہے نہ کہ ذاتی اورگروہی مفادات کے گرد۔ دینی جماعتوں کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف دین کی سربلندی کے لئے کام کر رہی ہیں، انہیں ذاتی یا گروہی مفا د سے کوئی غرض نہیں ہے۔
آپ کو وہ طرزعمل اختیار کرنا ہوگا جو رسول اکرمﷺ نے اختیارکیا۔ آپ کو خاک نشین بننا ہو گا، آپ کو خاکساری اپنانی ہو گی، آپ کو سادگی کے راستے پر چلنا ہوگا۔ آپ کی ایمانداری پر کسی کو انگلی اٹھانے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔ اپ کے دامن پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کی انکساری کے سب معترف ہونے چاہییں۔ اعلیٰ اخلاق اسلام کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس لئے اسلام کے نام لیواؤں کو حسن اخلاق کے اعلیٰ ترین مقام کو حاصل کرنا ہوگا۔ انہیں محمدی ؐ اخلاق کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا۔ خوش زبانی، خوش بیانی اسلام کا زیورہے۔ جب تک اسلام کے نام لیوا اس زیور سے آراستہ نہ ہوں گے اسلام سے ان کے لگاؤ کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اورعام لوگ ان سے متنفر رہیں گے۔ آپ کی زبان میں اتنی مٹھاس ہونی چاہیے کہ عام آدمی آپ کا گرویدہ ہو جائے۔ آپ کو کوئی ایسا عمل زیب نہیں دیتا جو آپ کی عوام الناس سے دوری کا سبب بنے۔
کیا دینی سیاسی جماعتوں کے اکابرین ہماری گزارشات پر غور کریں گے؟