قائد اعظم کی پہچان – ان کی زبان

ڈاکٹر فرخ شہزاد

ہمارے ملک میں ہرروزایک نیا سیاسی میلا سجتا ہے، مخالفین پرحملے کئےجاتے ہیں،انہیں برا بھلا کہاجاتا جاتا ہے اور ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جس کی معاشرتی اقدارقطعاً کوئی اجازت نہیں دیتیں۔ اگرہم قائد اعظم کی سیاسی جدوجہد کو ہی دیکھیں توسرپیٹ لیں کہ آج ہم کس ڈگر پرچل رہے ہیں، ذرا قائداعظم کی تقاریرسنیئے: ایک ایک لفظ تول کربولتے تھے۔ ہرجملہ متانت اورحکمت سےلبریز، نہ چیخنا نہ چلانا، نہ منہ سےدھواں نکالنا نہ ہاتھوں کو زورزورسے گھمانا۔ منہ سے غلط بات نکالنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ ایسےمیں کیونکرممکن تھا کہ کوئی ان کی کسی بات پراعتراض کرسکے۔ اعتراض کی گنجائش ہی نہ ہوتی تھی اور پھرعملی طورپراپنی مثال آپ، قول وفعل میں تضاد ناممکن۔ یہ ہوتا ہے قوم کے رہبروں کا طرزِ گفتگو اور طرزعمل۔ اگر قائداعظم بھی آج کے لیڈروں کی طرح چیختے چلاتے، اوٹ پٹانگ باتیں کرتے، دھواں دار تقریریں کرتے، بولنے سے پہلے نہ تولتے اور بدعملی کا نمونہ پیش کرتے تو پاکستان کبھی وجود میں نہ آتا۔ رہبرکی پہلی پہچان اس کی زبان ہے جس کی زبان صحیح نہیں اس کا عمل بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔ وہ رہبرنہیں ہے۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کریں اوران لیڈروں کی تقریریں سنیں اور تحریریں پڑھیں جنہوں نے قوم کوآزادی دلوائی یا ان کو بام عروج تک پہنچایا، ان لیڈروں میں کوئی ایک بھی ایسا نہ ملے گا جس کی زبان میں بے احتیاطی ہے جس کے فعل پرانگلی اٹھائی جا سکے۔ قائد اعظم سمیت ان سب لیڈروں میں یہ خوبی بھی بدرجہ أتم موجود تھی کہ کسی نے قوم کا ایک پیسہ بھی ضائع نہ کیا، کسی نے غبن نہ کیا، کسی نے اپنی دولت میں اضافہ نہ کیا، بلکہ سب نےاپنا تن من دھن قوم پرنچھاورکردیا۔
قائد اعظم نےنہ اپنی ذات کا سوچا نہ خاندان کا سوچاصرف اورصرف قوم کی فکرکی۔ زندہ لوگوں میں مہاتیرمحمد کی مثال موجود ہے۔ کچے مکان میں پرورش پانے والے مہاتیرمحمد کی کبھی زبان پھسلی نہ اس نے قوم کا پیسہ اپنی ذات پر نہ اپنی تصویروں والےاشتہارات پرنہ بےمقصد مدوں پرضائع کیا۔ اس نے صحت اورتعلیم کوپہلی ترجیح قرار دیا اوران شعبوں کے ساتھ ساتھ دوسرے شعبوں میں بھی اپنی قوم کوترقی یافتہ قوموں کی صفوں میں لا کھڑا کیا۔ اب اگر اپنے ہاں نظردوڑائیں توافسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے آج کے سیاسی لیڈروں کا یہ عام چلن ہے کہ لیڈر جب بولتا ہے تو بس پھنکارتا ہے، کوئی ایک جملہ ایسا نہیں جو تول کربولا جائے، مجال ہے جومخالف پرتنقید کرتے ہوئے اچھے الفاظ چن لئے جائیں یا کوئی سیاسی بیان دیتے ہوئے زبان کی احتیاط کاخیال رکھا جائے یا ملکی معاملات پراچھے اندازمیں گفتگوکرلی جائے۔ زبان سے طنزاورتضحیک کے نشترچل رہے ہیں اورعمل سے بدعملی جھلک رہی ہے۔ ہرلیڈرکوخوشامدیوں نے گھیررکھا ہے، وہ اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور اسے یہی بتاتے ہیں کہ آپ جو بولتے ہیں وہ سنہری حروف میں لکھےجانے کے قابل ہے۔ آپ سے اچھا کوئی اورنہیں۔ آپ کا ہرکام، ہرمنصوبہ اچھا ہے۔ آپ جس ڈگرپر چل رہے ہیں اسی پرچلتے رہیں کسی اورکی نہ سنیں۔ جو آپ پراورآپ کے منصوبوں پرتنقید کررہے ہیں وہ کم عقل اور جاہل ہیں ملک کے بھی دشمن ہیں۔
کاش! کوئی ایسا لیڈرپیدا ہوجائے جوکہے کہ میں قائد اعظم کے اصولوں پرعمل کروں گا۔ میں بولنے سے پہلے تولوں گا۔ میں قوم کا ایک پیسہ بھی ضائع نہ کروں گا۔ مجھے ذاتی تشہیر کی ضرورت نہیں۔ میں ملک کوصحت اورتعلیم کے شعبوں میں اتنی ترقی دوں گا کہ ہرفرد سرکاری ہسپتالوں اورتعلیمی اداروں کونجی ہسپتالوں اورتعلیمی اداروں پرترجیح دے گا۔ میں اپنے اوراپنے بچوں کے لئے کچھ نہ کروں گا میرا تن من دھن اس ملک پر قربان ہے۔ کاش! ایسا ہو جائے کاش! ایسا ہو جائے۔ لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ لیڈروں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی ہیں وہ کسی کے مشورے پر توجہ دینے پر آمادہ ہیں نہ اپنی زبانوں پرقابو پانے کو۔ قائد اعظم سے عقیدت کے دعوے جھوٹے ہیں اگر سچے ہوتے تو سب سے پہلے وہ اپنی زبانوں کی اصلاح کرتے۔