پنجاب اسمبلی تحلیل ہوگئی

پنجاب اسمبلی(Punjab Assembly) تحلیل ہوگئی ہے، کل رات کو 10 بج کر 10 منٹ پر اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری موصول ہوچکی تھی۔گورنر پنجاب نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط نہیں کیے، جس کے بعد اسمبلی آئینی طور پر تحلیل ہوچکی ہے۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمان اسمبلی توڑنے کے عمل کا حصہ نہیں بنے، نگراں وزیر اعلیٰ آنے تک پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ رہیں گے۔

اس سے قبل گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے کہا تھا کہ وہ اسمبلی توڑنے کے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

لاہور میں نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ فیصلہ کرچکا ہوں، اسمبلی توڑنے کے عمل میں شریک نہیں ہوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے آئینی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ کا اندیشہ نہیں۔

گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ آئین، قانون میں وضاحت کے ساتھ تمام معاملات کے آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔

اسمبلی تحلیل(Punjab Assembly) کے بعد نگراں سیٹ اپ کا نام سامنے آجائے گا، سبطین خان

اس سے قبل اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا کہنا تھا کہ اسمبلی تحلیل ہوتے ہی نگراں سیٹ اپ کے نام سامنے آجائیں گے۔

زمان پارک لاہورسے واپسی پر میڈیا سے گفتگو میں سبطین خان کا کہنا تھا کہ نگران سیٹ کےلیے ہمارے پاس 3 نام ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نگراں سیٹ اپ کے لیے 2 نام ہم نے اور 2 نام اپوزیشن نے دینے ہیں، معاملہ ہمارے درمیان طے نہ ہوا تو الیکشن کمیشن میں جائے گا۔

سبطین خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

مزیدخبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ ہم مارخور وزٹ کریں۔