فوجداری کارروائی کیلئے آج عمران خان پیش نہیں ہوئے

اسلام آباد کی عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان(Imran Khan) کے خلاف فوجداری کارروائی کی درخواست کی سماعت کے دوران عمران خان(Imran Khan) عدالت میں پیش ہوئے، نہ وکالت نامہ جمع کرایا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی سے متعلق درخواست کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے پیش نہ ہونے پر عمران خان کے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کر دی۔

عمران خان کے وکیل علی بخاری نے مہلت کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اپنے مؤکل کی طبی بنیاد پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دے رہے ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان کی جانب سے کوئی وکالت نامہ ہی دے دیں، درخواست کے ساتھ کیا عمران خان کی میڈیکل رپورٹ لگائی ہے؟ عمران خان کی طرف سے تو درخواست بھی دائر نہیں کی ہوئی۔

وکیل علی بخاری نے جواب دیا کہ واٹس ایپ پر میڈیکل رپورٹ منگوا لیں گے۔

الیکشن کمیشن کے جونیئر وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نہ وکالت نامہ جمع ہے، نہ درخواست پر عمران خان کے دستخط ہیں۔

عمران خان Imran Khan)کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ وکیل علی ظفر سینئر کونسل ہیں، کچھ پروفیشنلز کا احترام ہوتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر عمران خان کی طرف سے وکالت نامہ آ جاتا تو مقدمے کی نقول آج ہی آپ کو دے دیتے۔

وکیل علی بخاری نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں کوئی تاریخ دے دیں، اگر فروری کی کوئی تاریخ دے دیں تو بہتر ہو گا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے اس پر اعتراض اٹھایا کہ عدالت میں پیش ہونے تک عمران خان کی ضمانت منظور نہیں ہو سکتی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ آج اگر عمران خان پیش نہیں ہوتے تو ان کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مصدقہ کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ کیس کی مصدقہ کاپیاں فراہم کر دیں۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کا ایک اور کیس ہے، اُس کو بھی 31 جنوری تک ملتوی کیا ہے۔

عدالت نے عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی جبکہ اگلی سماعت پر حاضری کے لیے عمران خان کو نوٹس جاری کر دیا۔

وکیل کی استدعا پر عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ عمران خان کے وارنٹ سے متعلق بھی دیکھ لیں گے۔

ایڈیشنل سیشن جج نے توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق کیس کی سماعت 31 جنوری تک ملتوی کر دی۔

فوجداری کارروائی کیلئے درخواست کی منظوری
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے گزشتہ ماہ عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کی درخواست منظور کی تھی اور ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے اس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کی جانب سے اثاثوں میں توشہ خانہ تحائف چھپائے گئے، بادی النظر میں عمران خان کا جمع کروایا گیا ڈکلیئریشن غلط ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ بادی النظر میں عمران خان نے گوشواروں میں تحائف کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، بادی النظر میں عمران خان نے تحفوں کی فروخت سے حاصل رقم کی تفصیلات بھی ظاہر نہیں کیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بادی النظر میں عمران خان الیکشن ایکٹ کی دفعہ 174 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، عمران خان کے خلاف شکایت کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔

عدالت کے تحریری فیصلے میں عمران خان کو آج (9 جنوری کو) ٹرائل کے لیے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔

مزیدخبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ ہم مارخور وزٹ کریں۔