سیاسی اخلاقیات اور سورۃ الحجرات کی آیت نمبر11

ڈاکٹر فرخ شہزاد

74 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا پاکستان میں سیاست کے داؤ پیچ چلتے ہوئے۔ ہر حکمران کے خلاف محاذ بنائے گئے، تحریکیں چلیں اور حکمران کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہ تو سیاست کے داؤ پیچ تھے لیکن مخالفت کا ایک رُخ یہ بھی رہا کہ سیاستدان ہمیشہ ایک دوسرے پربرے الفاظ کی گولہ باری کرتے رہے۔ پہلے وزیر اعظم نے مخالفوں کو کتا کہہ کر پکارا۔ محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی جاتی رہی۔ ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو ان کے خلاف "کتا کتا” کے نعرے لگائے گئے۔ پیپلز پارٹی کے بانی نے کبھی نرم لہجے میں بات نہ کی انہوں نے 2لاکھ کے مجمع میں فحش گالی دی۔ انہوں نے مولانا موددوی، مولانا نورانی اور مولانا مفتی کے ناموں کا مذاق اُڑایا اور کہا کہ سب کے نام کے ساتھ چھوٹی”ی” لگی ہوئی ہے۔ یہ عورتو ں والے نام ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اخبار میں مولانا مودودی کے چہرے کے ساتھ ایکٹرسوں کے دھڑ جوڑ کرتصویریں شائع کی گئیں۔ جب بھٹو کے خلاف تحریک چلی تو ان کے خلاف بھی اخلاقیات سے گری ہوئی زبان استعمال کی گئی اور ا ن کے خلاف بھی "کتا، کتا” کے نعرے لگائے گئے۔ قومی اتحاد کے ایک لیڈر نے بھٹو کو کوہالہ کے پل پر لٹکانے کی بات کی۔ نصرت بھٹو کے ساتھ امریکی صدر کی تصویریں شائع کی گئیں۔ بے نظیر کی گندی تصویریں بنا کر انہیں پمفلٹ کی صورت میں ہیلی کاپٹر سے گرایا گیا۔
مسلم لیگ کے سربراہ نے پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے بارے میں سخت ترین الفاظ استعمال کیے۔ دوسرے نے زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ دینی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ ان کے رہنما رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کر تے ہوئے اپنی سیاسی زبان کی بھی حفاظت کریں گے لیکن انہوں نے بھی ایسا نہ کیا اور کبھی پنے تلے الفاظ میں بات نہ کی۔ ہر سیاستدان خود کو پہلوان سمجھتا ہے مگر اپنے غصے کو قابو کرنے سے قاصر ہے حالانکہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا "پہلوان وہ نہیں جو مخالف کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اس پر قابو پائے” (اپنی زبان کو قابو میں رکھے)۔ حیرت ہوتی ہے کہ ہم قائد اعظم ؒ اور مولانا مودودی ؒ کے علاوہ کسی تیسرے فرد کی مثال پیش نہیں کر سکتے جس نے سیاست میں شائستہ زبان استعمال کی ہو۔ آج کے دور میں بد زبانی اور تو تو میں میں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
دُکھ اس بات کا ہے کہ گزشتہ 75سالوں میں کسی عالم دین یا مفکر و مدبر نے اس معاملے کو موضوع گفتگونہ بنایا۔ آفرین ہے محترم چوہدری شجاعت پر جنہوں نے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر11کا ذکر کرکے سیاستدانوں کو اس طرف توجہ دلائی۔ اگلے ہی دن مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھیاس بارے تفصیلی بیان جاری کیا۔ ہمیں خوشی ہے کہ ایک بزرگ سیاستدان اور ایک جید عالم دین نے اس سورۃ کا ذکر کرکے نہ صرف سیاستدانوں بلکہ پوری قوم کو اس کی طرف متوجہ کیا۔ ہم اس آیت کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اُڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پرطعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے بازنہ آئیں وہ ظالم ہیں "۔
ہر مسلمان کو اس آیت سے آگاہ ہونا چاہیے۔ یہ آیت نہ صرف یہ کہ سیاسی اخلاقیات میں رہنما کا درجہ رکھتی ہے بلکہ ایک اسلامی معاشرے کو اخلاقیات کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اگر سب مسلمان ان احکامات پر عمل کریں تو یہ ان کے آپس میں بہترین تعلقات قائم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات نے خو د قرآن مجید میں یہ احکامات جاری کئے۔ یہ اتنے واضح ہیں کہ ان کے لئے کسی تشریح اور تفسیر کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح قرآن مجید زبان و بیان کے معاملات میں رہنمائی کرتا ہے اسی طرح زندگی کے تمام معاملات میں ہمیں رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ رسول اکرم ﷺنے اپنی سنت اور احادیث کے ذریعے ان اصولوں کی مکمل تشریح فراہم کر دی ہے۔ اس لئے ہمیں پورے قرآن مجید کا مطالعہ کرنا چاہیے اور سنت و احادیث سے بھی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ اگر سب اس طرح کریں تو ایک بہترین معاشرہ اور نظام تشکیل پا سکے گا جو کہ اللہ اور رسول اکرم ﷺ کومطلوب و مقصود ہے۔
آخر میں ہم قابل صد احترام چوہدری شجاعت حسین کی توجہ ایک انتہائی اہم معاملہ کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں جب آپ وزیر داخلہ تھے تو آپ نے مصر کی حکومت کے ساتھ ایک دوسرے کے مطلوب افراد کی حوالگی کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدہ کے تحت اخوان المسلمون سے وابستہ افراد مصر کے حوالے کئے گئے۔ یقینا ان لوگوں کو مصر میں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا ہوگا یا عقوبت خانوں میں اذیتیں دے دے کر موت سے ہمکنار کر دیا گیا ہوگا۔ ہماری چوہدری صاحب سے درخواست ہے کہ ان افراد کے اہل خانہ سے رابطہ کرکے ان کی دلجوئی کریں۔ ان کا یہ عمل اللہ کی رضاکا ذریعہ بنے گا۔ (انشاء اللہ)۔

اپنی رائے ہمیں اس ای میل پر فراہم کریں
faruukhshehzad1959@gmail.com