مافیازکا ملک، ایک کھلا راز

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ ایک کھلا راز ہے کہ پاکستان کے سماجی، سیاسی اورمعاشی منظرنامے میں کئی دہائیوں سے مافیاز(Mafia ) کا نمایاں اورکھلےعام کردار رہا ہے۔ یہ مجرمانہ لیکن بظاہرعزت دارتنظیمیں معاشرے کے مختلف شعبوں میں بشمول سیاست، کاروبار، اور یہاں تک کہ قانون کے نفاذ میں بھی فعال کردارادا کرتی رہی ہیں ۔ اگرچہ یہ ضرور ہے کہ ان شعبوں میں تمام افراد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں، لیکن ان کے اندرکچھ عناصرمافیا جیسے کردار کے حامل ہیں اورغیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جس کے ملکی معیشت پرمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اوراس کا نقصاں عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
کچھ اہم شعبے جو کہ عام شہریوں کے لئے بےشمار روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں اورکسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتے ہیں لیکن بد قسمتی سے یہ اہم شعبے ہمارے ملک میں مافیاز کی اجاراداری کا شکار ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال لینڈ مافیا ہے۔ اس میں نا صرف مجرمانہ ذہنییت کے افراد بلکہ کچھ نجی اورسرکاری ادارے بھی ملوث ہیں۔ زمینوں پرنا جائزقبضے اور زمینوں کی غیر قانونی خرید و فروخت پاکستان میں ایک عام پایا جانے والہ مسئلہ ہے۔ پاکستان میں کورٹ کچہریاں دیوانی مقدمات سے بھرے پڑے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ لینڈ مافیا اکثرکرپٹ سرکاری اہلکاروں اور پولیس کے ساتھ مل کر قیمتی املاک پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ یہ مافیازجعلی دستاویزات، دھمکیوں، اسلحہ کے زور، تشدد اورطاقت کا نا جائزاستعمال کرتے ہوئے زمین ہتھیا لیتے ہیں اورمتاثرین حصول انصاف کے لیؑے سالہا سال اورنسل درنسل کورٹ کچہریوں میں جوتیاں گھسنے پرمجبور ہو جاتے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ہاوؑسنگ سوسائٹیزاور مارکیٹنگ کمپنیز نے سادہ لوح (اورکچھ لالچی) عوام کو(۹) ارب روپے کے پلاٹوں کی فائلیں بیچ رکھی ہیں، جس کے ثمرات اس نسل تو کیا اگلی نسل کو ملنا بھی شائد ممکن نہیں۔
قبضہ مافیا کے بعد، پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی کا باعث ڈرگ مافیا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان منشیات کی عالمی تجارت کے لیے ٹرانزٹ روٹ کے طور پرکام کرتا ہے، اور ڈرگ مافیا ہیروئن، چرس، افیون اور آئس جیسی مہلک اور خطرناک منشیات کی پیداوار، اسمگلنگ اور تقسیم میں ملوث ہے۔ ان جرائم پیشہ گروہوں کے بین الاقوامی منشیات کے کارٹلز سے رابطے ہیں۔ یہ دنیا میں پاکستان کے لئے شرمندگی کا باعث ہیں اور پاکستان میں دیگر جرائم میں بھی ملوث ہیں۔ اسی طرح کی جرائم پیشہ تنظیموں کی بدولت پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہرکراچی کو مسلسل تشدد، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور سٹریٹ کرائمزکا سامنا ہے۔ کئی سیاسی اور نسلی گروہوں پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ اورسٹریٹ کرائمز مافیاز چلا رہے ہیں، لیکن اب تواس مافیا کی کاروائیاں دیگر بڑے شہروں اور خاص طور پر وفاقی دارلحکومت اسلام اۡباد میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں، جس کی وجہ سےعوام عدم تحفظ اور معاشرہ بےچینی کا شکار ہیں۔
پاکستان میں عوامی نقل و حمل اور مال برداری کا شعبہ اکثر طاقتور ٹرانسپورٹ مافیا کے زیر کنٹرول ہیں جو قیمتیں طے کرنے، صارفین سے زائد رقم وصول کرنے اوردیگرغیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ٹینکرمافیا آئے روزمطالبات کے ساتھ ہڑتال کی دھمکیاں دیتا ہے اورمہنگائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ ٹرانسپورٹ مافیا اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے ہرجائزاورنا جائزطریقہ اپناتا ہے اورعوام کا استحصال کرتا ہے۔
ایک اور بے رحم مافیا شوگراورگندم مافیا ہے۔ پاکستان کو چینی اور گندم جیسی ضروری اشیاء خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی اور ہیرا پھیری کا شد ت سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کارٹلزاورمافیاز (Mafia) مصنوعی طور پر قیمتوں میں اضافے اورناجائزمنافع خوری کے لیے مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں اورعوام کی مشکلات میں اضافے اورمہنگائی کا سبب بنتے ہیں۔
ایک اور بڑا مسئلہ طاقتوراوربااثراسمگلرز ہیں، اس مافیا کا پاکستانی میعشیت کی ریڑھ کی ہڈی توڑنے میں بہت اہم کردارہے۔ خوش قسمتی سے صوبہ بلوچستان اور قبائلی علاقے قیمتی لکڑی، معدنیات اور دیگر وسائل سے مالا مال ہیں۔ جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن سرحدوں پر موثرکنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے یہ سب کچھ بشمول اشیاء خوردونوش یعنی گندم، چاول اور گوشت غیرقانونی اسمگلنگ کی نظرہوجاتے ہیں۔ اور پاکستان نہ صرف قیمتی زرمبادلہ سے محروم رہتا ہے بلکہ خوراک کی قلت کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ اکثر مقامی حکام کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے سیاست کوعبادت کہنے والوں کی طرزسیاست نے صرف بدعنوانی اور اقربا پروری کو فروغ دیا ہے، جس نے سیاسی مافیاز (Mafia) کو جنم دیا ہے جو دولت اورطاقت کے حصول کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے فائدے کے لیے قانون اورحکومتی نظام میں مداخلت اورہیرا پھیری کرتے ہیں، جس کی وجہ سے حکومتی نظام میں احتساب اور شفافیت کا فقدان ہے۔ اور ملک کی حالت دگرگوں ہے۔
ان مافیاز(Mafia) سے نمٹنے کے لئے مختلف ادوارمیں متعد کوششیں کی گئی ہیں، وقتاً فوقتاً کریک ڈاؤن، چھاپے، گرفتاریاں اور دیگر اقدامات ہوتے رہے ہیں۔ جن میں سےاکثر بدعنوانی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزور گرفت اورسیاسی اثرورسوخ اور بیوروکریسی کے سرخ فیتے کی وجہ سے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں موجودہ نگران حکومت بھی سنجیدگی سےکوشاں ہے، لیکن اس کوشش کو سبوتاج کرنے کے لئے بجلی چور پکڑنے کا ڈرامہ اۡپریشن لانچ کیا گیا ہے، جس میں پکڑے جانے والوں کی اکثریت غریب اور پسا ہوا طبقہ ہے، البتہ بڑےمگرمچھوں کو پوچھنے والہ کوئی نہیں۔ حکومت مزید کئی ایسے اقدامات کر رہی ہے جس کے ملکی معیشت پرمثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اورمزید بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔
ان تمام مسائل کے باوجود یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ پاکستانی معاشرے کے تمام شعبے مافیاز (Mafia) کے زیر اثر نہیں ہیں، بہت سے ایماندارافراد اورسرکاری ونجی تنظیمیں اورادارے ان چیلنجزسے نبرد اۡزما ہیں، اور ملک میں گڈ گورننس، احتسابی نظام میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کےلئے ملک میں قانون موجود ہے، بس سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ بےخوف عمل کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے ہمیں اس ای میل پر فراہم کریں
سید نسیم شاہ
naseem.shah5@gmail.com

مزیدخبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ ہم مارخور وزٹ کریں۔