لانگ مارچ: خاتون کی بدتمیزی پر خاموش رہنے والے پولیس اہلکار کا بیان سامنے آگیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران خاتون کی بدزبانی کو صبر سے برداشت کرنے والے پولیس اہلکار کا بیان سامنے آگیا۔

پنجاب پولیس کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کانسٹیبل شہباز کا ویڈیو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں کچھ افراد درختوں کو آگ لگا رہے تھے، ہم نے اُنہیں منع کیا تو وہاں سے یہ خاتون ہمارے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہوگئیں۔‘


کانسٹیبل شہباز نے کہا کہ ’اُس کے بعد خاتون نے میرے ساتھ سخت الفاظ کا استعمال کرنا شروع کردیا لیکن میں برداشت کا مظاہرہ کرتا رہا کیونکہ یہ میری ٹریننگ اور تربیت کا حصہ ہے کہ تمام مائیں، بہنیں، ہماری اپنی ہیں اور اُن کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’ہماری تربیت گاہوں میں بھی یہی سکھایا جاتا ہے کہ اخلاق کا دامن کبھی مت چھوڑنا اور یہی ہمارے آئی جی صاحب کا ویژن بھی ہے ۔‘

کانسٹیبل شہباز نے مزید کہا کہ ’جیسے ہی میری ویڈیو وائرل ہوئی تو میرے خاندان والوں نے مجھے فون کال کرکے شاباشی دی اور کہا کہ آپ نے بہترین سلوک کا مظاہرہ کیا۔‘
پولیس اہلکار نے مزید کہا کہ ’میرے اعلیٰ افسران اور آئی جی صاحب نے بھی مجھے ذاتی طور پر کال کرکے شاباشی دی۔‘

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران اسلام آباد میں ایک خاتون بیچ سڑک پر پولیس اہل کار سے بدتمیزی کرتی رہیں، گالیاں دیتی رہیں اور گھٹیا الفاظ کی تکرار کرتی رہیں۔

پولیس اہل کار خاموشی سے چلتا رہا، کوئی رد عمل نہیں دیا، لیکن خاتون کی زبان درازی نہیں رکی۔

راہ چلتی دوسری خاتون نے ٹوکا تو ان پر بھی گالم گلوچ کی برسات کردی، تہذیب، تمیز، بنیادی اخلاقیات سب کی دھجیاں اڑا دیں۔