عقیدۂ ختم نبوتؐ کی تبلیغ

ڈاکٹر فرخ شہزاد

انسان جس گھر میں پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی گھر کا مذہب اختیار کرتا ہے یعنی اسے مذہب بھی وراثت میں ملتا ہے۔ اگر وہ مسلمان ہے تو وہ نسلی مسلمان کہلائے گا کیونکہ اسلام نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ جن لوگوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور دوسرا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کیا وہ نو مسلم کہلاتے ہیں۔
ہماری آج کی تحریر کا موضوع اسلام نہیں بلکہ قادیانیت ہے یا احمدیت ہے۔ جو لوگ مرزا غلام احمد کے دور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے مرزا کو نبی تسلیم کیا وہ اسلام کو ترک کرنے کی بنیاد پر مرتد ہو گئے اور اسلام سے خارج ہو گئے وہ اللہ کو جوابدہ ہیں۔ ہم ان کے بارے میں بات نہیں کر رہے بلکہ ان لوگوں کے بارے میں بات کرنے جا رہے ہیں جو قادیانی گھرانوں میں پیدا ہوئے، اس طرح نسلی قادیانی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اندھیرے میں رہ رہے ہیں کیا ان کو روشنی دکھانے کی ضرورت نہیں ہے؟ ہمارے خیال میں عقیدۂ ختم نبو ت ؐ کا انتہائی اہم تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں تک رسائی حاصل کی جائے جو نسلی قادیانی ہیں اور انہیں سمجھایا جائے کہ ان کے بڑوں نے قادیانیت قبول کرکے خود بھی جہنم خریدی اور اپنی نسلوں کو بھی جہنم کی طرف دھکیل دیا۔ ایسے لوگوں کو عقیدۂ ختم نبوت ؐ کی تبلیغ کرنے اورا نہیں اسلام کی دعوت دینے کی ضرورت ہے۔ ہماری رائے ہے کہ علماء کرام اور محافظین عقیدۂ ختم نبوت ؐ کو اس مسئلے پر بھر پور توجہ دینی چاہیے۔ انہیں یہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے کہ کس طرح نسلی قادیانیوں تک عقیدۂ ختم نبوت ؐ کا پیغام پہنچائے جائے اور انہیں اس چنگل سے نکالا جائے۔ ظاہر ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو لا علمی کی وجہ سے یہ مذہب قیامت تک قائم رہے گا اور پھلتا پھولتا رہے گا۔ بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے مشن پر کام کر رہے ہیں لیکن ہمارے علم میں نہیں کہ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو قادیانیوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے مشن پر کام کر رہے ہوں۔ قادیانیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے اور ان کی سازشوں اور ریشہ دانیوں کی نشاندہی کرکے ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہو گیا۔ شاید ایسا نہیں ہے۔ ہمیں آگے بڑھ کر ایسے لوگوں کو ڈھونڈنا چاہیے اور پیار و محبت سے انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ انہیں سمجھایا جائے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی نسل کے لوگوں کو گمراہ کیا، پھر یہ گمراہی نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے اور ہر گھرانہ اپنی آل اولاد کو وہی بتا رہا ہے جو وہ خود سنتا آرہا ہے۔ یہ سب گمراہ گروہ میں گھرے ہوئے لوگ ہیں۔ ہم نے دوسرے کافرگروہوں کی طرح اس گروہ کو بھی اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ علماء کرام ہی اس بارے صحیح رائے دے سکتے ہیں کہ کیایہ رویہ صحیح ہے؟ ہم نہ مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں، نہ مسلمانوں کے جذبات انگینخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم تو پیار اور محبت کے ذریعے ایک کام کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے ہمارے دلوں میں نفرت کے بیج بو دئیے ہیں ایسے میں ہمیں یہ خیال کیونکر آئے گا کہ ہم انہیں اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔ جہاں تک قادیانیوں کے علاوہ دوسرے غیر مسلموں کا تعلق ہے تو ان کا تو مذہب ہی کچھ اور ہے، اس لئے انہیں مذہب تبدیل کرنے پر راضی کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن ایک ایسا گروہ جو اسلام کی تعلیمات سے واقف ہے۔ مگر ایک جھوٹے نبی کا پیرو کار بن کر گمراہی کے راستے پر چل پڑا اسے اس راستے سے واپس لوٹانے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ ایسے لوگ اگر اپنے عقیدے سے تائب ہو جائیں توان کے لئے مسلمانوں کی صفوں میں لوٹنا آسان ہے۔ ہم نے ایسے بہت سے لوگوں کے انٹرویوز سنے جنہوں نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔ ان انٹرویوز سے ہم نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دلوں پر دستک دی جائے تو ان کے دل قادیانیت سے تائب ہو سکتے ہیں۔ کیا عجب کہ اس طرف بھر پور توجہ دی جائے تو ہم ایک بہت بڑی تعداد کو گمراہی سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں۔ وہ لوگ خصوصی توجہ کے مستحق ہیں جو بیرون ملک رہتے ہیں اور غیر مسلم تھے پھر ان کو قادیانیوں نے گھیر لیا اور قادیانی بنا لیا۔ ایسے لوگ تو قادیانیت ہی کو اسلام سمجھ کر اسے اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اشد ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کو خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کا راستہ دکھایا جائے۔
آخر میں ایک وضاحت: بہت سے لوگ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ایلیٹ کلاس سے ہے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرا ہرمذہب اسلام ہی کی طرح ایک مذہب ہے۔ اسی نظریے کے تحت ایک ممبر قومی اسمبلی کے فلور پر فخریہ یہ اعلان کیا "میرے نزدیک سب مذہب برابر ہیں اور میں نے چرچ میں بھی نماز ادا کی”۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ حق مذہب اور دین صرف اسلام ہے۔ باقی تمام مذاہب باطل ہیں۔ سب کو اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنا چاہیے لیکن اس میں کوئی جبر نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روز محشر کو فیصلہ کا دن مقرر کر دیا ہے۔ جو اسلام قبول نہیں کرتے وہ روز محشر اللہ کو جواب دہ ہوں گے۔ دوسروں کو تبلیغی انداز میں اسلام کی دعوت دینی چاہیے۔ وہ دعوت قبول کریں یا نہ کریں کوئی جبر نہیں۔ ہدایت دینا اللہ کا کام ہے وہ ہماری ذمہ داری نہیں۔