خاتون جج کو دھمکانے پر توہین عدالت، عمران خان پر فرد جرم کی کارروائی روک دی گئی

Breaking News: خاتون جج کو دھمکانے پر توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان پر فرد جرم کی کارروائی روک دی۔دوران سماعت عمران خان ہائی کورٹ پہنچ گئے۔ شاہ محمود قریشی بھی عمران خان کے ہمراہ عدالت پہنچے۔ عمران خان وکلا کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے۔شاہ محمود قریشی کو کمرہ عدالت جانے سے روک لیا گیا۔ پولیس نے انٹری کارڈ نہ ہونے پر شاہ محمود قریشی کو عدالت داخلے سے روکا۔ کمرہ عدالت کے دروازے پر دھکم پیل بھی دیکھنے میں آئی۔

عمران خان روسٹرم پر آگئے اور کہا ہمارے لیے تو اندر گھسنا مشکل ہو گیا تھا۔ پولیس کی پوری فوج تعینات کی گئی ہے۔ میں ہمیشہ رول آف لاء کی بات کرتا ہوں۔ میں نے صرف لیگل الیکشن کی بات کی بس۔ میں بات کرنا چاہتا تھا لیکن گزشتہ سماعت پر بات کرنے نہیں دی گئی۔ میں معزرت خواہ ہوں۔ میں مستقبل میں بھی ایسی کوئی بات نہیں کرونگا۔ عدالت یا جوڈیشری کے بارے میں کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں خاتون جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا خاتون جج کے پاس جانا یا نہ جانا آپ کا ذاتی فیصلہ ہو گا۔ اگر آپ کو غلطی کا احساس ہو گیا اور معافی کے لیے تیار ہیں تو یہ کافی ہے۔ ہمارے لیے توہین عدالت کاروائی کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ عدالت فرد جرم عائد نہیں کر رہی۔ اگر عمران خان کو غلطی کا احساس ہو گیا تو عدالت اس کو سراہتی ہے۔ عمران خان اگلے ہفتے تک بیان حلفی جمع کروا دیں ۔ عدالت نے سماعت 3 اکتوبر تک سماعت ملتوی کر دی۔
عمران خان آج پچھلی کرسیوں پر بیٹھنے کے بجائے روسٹرم کے بالکل قریب موجود کرسیوں پر بیٹھے گئے اور سماعت شروع ہوتے ہی عمران خان روسٹرم پر آئیں گے اور اپنے بیان کی وضاحت دینے کی ججز سے اجازت چاہی جو انھیں اجازت ملنے پر عمران خان نے کہا کہ میری جج صاحبہ کو تھریٹ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
عمران خان نے کہا میں خاتون جج کے پاس جاکر وضاحت دینے اور معافی مانگنے کو بھی تیار ہوں۔
انھوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں کچھ ایسا نہیں کروں گا۔
ججز کے پینل نے مشاورت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کا فرد جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہم آپ کے بیان کو سراہتے ہیں،
کیس 29 ستمبر تک سماعت ملتوی کردیا گیا۔
مزیدخبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ ہمارخور وزٹ کریں۔