امام الحدیث، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ

بسم اللہ الرحمن ارحیم
از:ڈاکٹر ساجدخاکوانی

حدیث نبویﷺ کی جمع و تدوین وہ شاندارعلمی کارنامہ ہے جس کی نظیراس سے ما قبل وما بعد انسانی تاریخ میں عنقا ہے۔ محدثین عظام نے اصول حدیث کے عنوان سے پوری ایک سائنس ترتیب دی اور رد وقبول کے ایسے معیارات قائم کیے کہ جن کا مطالعہ عقل انسانی کودنگ کیے دیتا ہے۔ ان اکابرین امت مسلمہ نے اپنے قائم کیے ہوئے پیمانوں پر وقت کی مروجہ روایات کو جانچا اور پرکھا، اوربعض اوقات ایک ایک روایت کی تحقیق کے لیے انہیں مہینوں کی جستجو اور براعظموں کا سفربھی کرنا پڑا، لیکن ان کی ہمت کو آفرین ہے کہ اتنے بڑے فرض عشق کو انہوں نے کس حوصلے و ہمت اورصبرواستقامت کے ساتھ ادا کیا۔ قرون اولیٰ کے کم و بیش ڈیڑھ صدی کی طوالت پر محیط اس دورانیے کے عظیم ترین اذہان نے احادیث رسول ختمی مرتبتﷺ کے اقوال و افعال کو چھانٹ کر الگ رکھ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ امتوں نے کلام اللہ کے ساتھ بھی شاید اتنی وفا نہ کی ہو گی جب کہ امت مسلمہ کے عمائدین سنت رسول اللہﷺ نے اپنی نبی کے معمولات حیات کواس شان کے ساتھ قلم بند کیا کہ آج سیرت النبیﷺ کا ایک ایک لمحہ محفوظ و مامون ہے اور یہ معجزات نبویﷺ میں سے ایک زندہ معجزہ ہے کہ آج اکیسویں صدی کی دہلیز پر تمام وسائل کے بہتات اور فراہمی کے باوجود کسی نامور شخصیت کے بارے میں بھی اتنی مکمل، جامع، مستند ومتواترمعلومات جمع نہیں ہیں جتنی کی سراجاََمنیراﷺ کے بارے میں دستیاب ہیں۔
امت مسلمہ میں دس کتب احادیث کو استناد کا درجہ حاصل ہے، صحاح ستہ میں چھ کتب داخل ہیں اور اصول اربعہ بقیہ چار کتب ہیں، تلک عشرۃ کاملہ کے مصداق یہ کتب سیرۃ و سنت کا عظیم ترین سرمایہ ایمان و عمل اپنے اندرسمیٹے ہیں۔ ان کل کتب میں “علم حدیث کا ماہتاب بخاری شریف” کو سب سے اعلی مقام حاصل ہے اورامت مسلمہ کے کل مکاتب فکرکے ہاں اول روز سے آج دن تک ہردورمیں اس کتاب کو اولین مقام حاصل رہاہے۔ “الجامع الصحیح البخاری” کو اس زمین کے سینے پراور اس آسمان کی چھت کے نیچے قرآن مجید کے بعد سب سے سچی ترین کتاب جانا ومانا گیا ہے۔ اس کتاب کا حوالہ ہرلحاظ سے مستند اورکسی سوال کی گنجائش کے بغیر تسلیم کرلیا جاتا ہے۔ امت مسلمہ میں جتنی پزیرائی اس کتاب کوحاصل ہے وہ مقام کسی اور کوحاصل نہیں ہو پایا۔ بہت ہی کم علم اورنا واقف دین مسلمان بھی اس کتاب کے نام و مقام سے اسی طرح واقف ہے جس طرح قرآن مجید سے تعارف رکھتا ہے۔ مسلمان معاشروں میں بسنے والےغیرمسلم بھی اس نام سے ایک انس رکھتے ہیں اور انہیں بخوبی معلوم ہے کہ اس کتاب میں مسلمانوں کے نبی علیہ السلام کے اقوال وافعال درج ہیں۔ بخاری شریف کی اہمیت کا اندازہ اس امرسے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قانونی وعدالتی امورتک کے معاملات میں جہاں کہیں کتاب اللہ خاموش ہوتی ہے وہاں سنت رسول اللہﷺ کی یہ کتاب قانون سازی کرتی نظر آتی ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جو اس مایہ نازکتاب کے مولف ہیں، ان کا پورا نام محمد بن اسمائیل ہے، لقب امیرالمومنین فی الحدیث، کنیت ابوعبداللہ اورآپ کے آبائی علاقہ بخارا کی نسبت کے باعث آپ کوامت میں “امام بخاری” سے موسوم کیا جاتا ہے۔ 13 شوال 194 ہجری بمطابق 19جولائی 810عیسوی کو بروزجمعۃ المبارک پیداہوئے۔ مقام پیدائش وسط ایشیا کا مشہورعلاقہ بخارا ہے جو اس وقت صوبہ خراسان کبیرکی ایک انتظامی اکائی تھا اور آجکل اشتراکی روس سے آزاد شدہ اسلامی ریاست ازبکستان کا ایک حصہ ہے۔ آپ کے والد گرامی اسمائیل بن ابراہیم بن مغیرہ الجعفی بھی ایک محدث تھے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے امام مالک بن انس ؒسے کسب فیض کیا تھا۔ “الجفی” کی نسبت آپ کے جدی بزرگ مغیرہ کے ساتھ پہلی دفعہ اس وقت لگی جب انہوں نے والی بخارا حضرت یمن الجفی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اورمستقل طور پر بخارا میں ہی مقیم ہو گئے۔ اس سے پہلے وہ ایرانی مذہب زرتشت کے ماننے والے تھے۔ امام بخاری کے والد کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ رزق حلال کے بارے میں بہت محتاط تھے، ان کے ایک شاگرد کا بیان ہے کہ دم واپسیں وہ اپنے استاد کے پاس موجود تھے اور امام بخاری کے والد بزرگوار نے وقت نزع فرمایا کہ میں نے ایک درہم بھی ایسا نہیں چھوڑاجس کے بارے میں کو ئی شک و ابہام موجود ہو۔ لیکن افسوس کہ اس بلند پایہ پاکباز انسان نے اپنے فرزند ارجمند کا زمانہ عروج نہ دیکھا اورامام بخاری کی صغرسنی میں ہی راہی ملک عدم ہوئے۔ چنانچہ امام بخاری کی پرورش ان کی والدہ کے ذمہ آن پڑی۔ یہ ایک خدا ترس اورعبادت و ریاضت میں مشغول رہنے والی خاتون تھیں۔ امام بخاری کے بارے میں کتابوں میں لکھاہے کہ وہ بچپن میں نابینا ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ محترمہ نے اللہ تعالی سے اس قدر گریہ و زاری کی کہ بلآخرخواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بینائی کی بشارت دی اوراللہ تعالی کے ہاں سے بینائی جیسی نعمت امام بخاری کو پھر سے عطا ہو گئی۔
امام الذہبی کے مطابق 205ھ یعنی کم و بیش دس برس کی عمر میں سلسلہ تعلیم جاری ہوا، اور بچپن میں ہی عبداللہ بن مبارک ؒ کی علمی کاوشیں ازبرکرلیں، پس، قدرت نے خود ہی بقیہ زندگی کو روایت حدیث سے جوڑ دیا۔ 210 ھ میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ علوم سفریہ کا آغاز کیا اور آغاز شباب میں ہی کتابوں کی تالیف اور روایت حدیث کا آغاز کر دیا۔ امام بخاری خود بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں جب عبیداللہ بن موسیٰ کے پاس زیرتعلیم تھے تو روضہ رسولﷺ کے جوارمیں بیٹھ کر راتوں کے اوقات میں چاند کی روشنی میں “ قضایائے صحابہ و تابعین” نامی ایک کتاب تالیف کی تھی۔ اسی زمانے میں سولہ سال کی عمر کے دوران اپنی والدہ محترمہ اورچھوٹے بھائی کے ساتھ حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کا ایک طویل دورانیہ سفرشروع ہوتا ہے جس میں آپ نے شرق و غرب کے بڑے بڑے بلاد علمیہ ومشاہیرواعلام کے ہاں پہنچے۔ اس دوران آپ نے ایک ہزار سے زائد اساتذہ کرام کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور چھ لاکھ احادیث اپنے سینہ میں محفوظ کیں۔ آپ نے شام، مصر، جزائر، بغداد اور بصرہ وغیرہ کا سفرکیا ان کے علاوہ دور دراز کے اسفارمیں مرو، بلخ، ہرات، نیشاپور اور رے بھی شامل ہیں غرض یہ کہ ہر بڑے مرکزعلم تک آپ نے رسائی کی۔ آپ کے ساتھ سفرکرنے والوں نے امام بخاری سے متعلق متعدد واقعات نقل کیے ہیں۔ آپ کے اساتذہ کرام میں امام احمد بن حنبل، علی ابن المدینی، یحییٰ ابن معین، محمد بن یوسف، ابراہیم الاشعث اور قتیبہ ابن سعید جیسی نابغہ روزگار ہستیاں شامل ہیں۔ آپ کے تلامذہ کی تعداد مبالغہ کی حد تک وسیع ہے، آپ جہاں بھی جاتے طالبان علم کا ایک جم غفیراپ کے گرد جمع ہوجاتا۔ آپ کے سامنے اور قریب کے حلقے میں بیٹھنے والے قلم دوات سے لکھ رہے ہوتے اور صرف سننے والے ان کی پشت پر صف بند ہوتے تھے۔ جس شہر میں آپ کی آمد ہوتی عوام کی ایک کثیرتعداد شہرسے باہر آپ کے استقبال کے لیے موجود ہوتی تھی۔
آپ کی ذاتی زندگی سادگی اور فقر سے عبارت تھی۔ والد بزرگوار کا مختصرترکہ آپ نے مضارب کی حیثیت سے تجارت میں لگا کرخود کو حدیث نبویﷺ کی روایت کے لیے فارغ کرلیا تھا۔ تجارت سے بہت کم فائدہ ہوتا تھا اور وہ بھی طلبہ و مساکین پرخرچ کردیا کرتے تھے۔ اسفارعلمیہ کے دوران آپ کئی کئی دنوں تک گھاس کھا کر بھی گزارہ کرتے رہے۔ آپ کے ہم سفروں نے بعض اوقات چندہ کرکے بھی آپ کی کفالت کی۔ سفرمیں مسلسل فاقہ کشی کے باعث آپ علیل بھی رہنے لگے تھے۔ عادت مبارکہ تھی کہ روٹی بغیر سالن کے ساتھ تناول فرماتے تھے، ایک بار شیوخ نے سالن کے ہمراہ کھانے پراسرارکیا تو روٹی کے ساتھ شکر پراکتفا کیا۔ مزاج میں رحم دلی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، کاروباری معاملات میں بہت نرمی کرتے تھے اور وصولیوں میں بہت رعایت دیا کرتے تھے اورلونڈی غلاموں کوان کی گستاخیوں پر بھی آزاد کردیا کرتے تھے۔ عبادت و ریاضت سے خصوصی شغف تھا، دائمی طورپر قائم اللیل رہے، دن کے نوافل بھی باقائدگی سے ادا کرتے، رمضان کی راتوں میں تراویح کے بعد سحری تک مصلے پر ہی رہتے اورعموماََ تین دن میں ایک بارقرآن ختم کرلیتے تھے اور پھرکوئی دعا بھی مانگتے اورفرمایا کرتے تھے کہ ہر ختم قرآن پر ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ اتباع سنت میں آخری عمرتک نیزہ بازی کی مشق جاری رہی اور کبھی بھی نشانہ خطا نہ گیا تھا۔ حاکم بخارا نے دربارمیں آکر شہزادوں کو پڑھانے کاحکم صادرکیا توآپ نے علم کی بے قدری کے باعث انکار کردیا، حاکم نے شہزادوں کے لیے الگ وقت چاہا تو بھی نہ مانے۔ قوت حافظہ کرامت کی حد تک مضبوط تھی۔ آپ نے اوائل عمری میں ایک خواب دیکھا کہ ہاتھ میں پنکھا تھامے محسن انسانیتﷺ کے چہرہ مبارک سے مکھیاں اڑا رہے ہیں۔ تعبیردینے والوں نے اس خواب پرکہا کہ امام بخاریؒ صحیح احادیث چھانٹ کرالگ کریں گے۔
آپ کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے لوگوں میں بہت سی من گھڑت روایات احادیث نبویﷺکے نام سے مشہور ہو گئی تھیں۔ امام بخاری سے پہلے کے محدثین نے اپنی کتب میں درست احادیث کو جمع تو کیا لیکن تمام درجات کی احادیث ایک ہی جگہ جمع کردیں، اس طرح حدیث کو گہرائی سے سمجھنے والے توان کتب سے استفادہ کرسکتے تھے لیکن عوام الناس کے لیے احادیث کی درجہ بندی کوسمجھنا مشکل تھا۔ امام بخاری نے ایک ایسی کتاب کی تالیف کا ارادہ کیا جس میں سب صحیح روایات جمع ہوں۔ سولہ سالوں کی طویل مدت کے بعد آپ جب بخارا میں تشریف لائے تو جمع کی ہوئی احادیث کی تالیف شروع فرمائی۔ آپ نے حدیث کی قبولیت کی بہت سخت شرائط متعین کیں اور جو جو روایات ان معیارات پر پوری اترتی گئی صرف انہیں کوآپ نے اپنی کتاب میں درج کیا۔ آپ نے اپنی کتاب کا نام “لجامع الصحیح المسند من حدیث رسول ﷺ وسننہ وایامہ” رکھا۔ اس کتاب کی تکمیل میں سولہ سال صرف ہوئے۔ کتاب میں ہر باب کا آغاز قرآنی آیت سے کرتے ہیں اور احادیث پر نقد وتبصرہ بھی کرتے ہیں اورحدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہیں کہیں فقہی مسائل سے بھی بحث کرتے ہیں۔ بغیرتکرارکے اس کتاب میں کل احادیث کی تعداد 2602 ہے، ثلاثی احادیث 22 ہیں اورکل احادیث کی تعداد 7397 ہے۔ ثلاثی احادیث سے مراد محدث اور نبیﷺ کے درمیان صرف تین راوی ہیں۔ جس حدیث میں جتنے کم راوی ہوں وہ حدیث اتنی زیادہ قابل اعتماد ہوتی ہے، اس لیے کہ راویوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو تو اس میں بھول جانے کا اندیشہ اتنا زیادہ ہوتا ہے۔ امام بخاری ؒ نے صرف متصل الاسناد احادیث کونقل کیا ہے۔ متصل الاسناد احادیث سے مراد وہ احادیث ہیں جن کی سند بغیرکسی کٹاؤکے آپﷺ تک پہنچ جاتی ہے، یعنی نبیﷺ سے صحابی، پھرتابعی اور پھر تبع تابعی اس کے بعد فقہاء کے طبقے کے راوی اور تب وہ روایت محدث تک پہنچے اور درمیان سے کو ئی راوی ایسا نہ ہوجسے اپنا استاد بھول گیا ہو۔ اگرکوئی راوی اپنے استاد کا نام بھول جائے مثلاََ تبع تابعی کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے تابعی کا نام بھول جائے اور براہ راست صحابی کا نام لے لے توایسی روایت کوامام بخاری اپنی کتاب میں شامل نہیں کرتے اس لیے یہ روایت متصل الاسناد نہیں رہی۔
امام بخاری ؒصرف ثقہ راویوں سے تخریج کرتے ہیں۔ ثقہ راوی سے مراد حدیث بیان کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کی بات ہمیشہ پختہ ہوتی ہے، ان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے، ذریعہ رزق حلال ہوتا ہے، ان کے معمولات زندگی سنت رسول اللہﷺ کے مطابق ہوتے ہیں اوران کا حافظہ قوی ہوتا ہے یعنی بھولنے کی عادت انہیں نہیں ہوتی یا کم از کم نبیﷺ کی احادیث کو بڑی احتیاط سے اپنے حافظے میں سنبھال کررکھتے ہیں۔ ثقہ راویوں پرکذب بیانی کی تہمت بھی نہیں ہوتی یعنی وہ سنی سنائی یا جھوٹی یا مشکوک روایت کو آگے بیان نہیں کرتے اور قول رسولﷺ یا فعل رسولﷺ بیان کرتے ہوئے حد درجہ حزم و احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ اس زمانے کے عرب قبائل کاحافظہ عموماََ بہت قوی تھا، انہیں نسلوں سے جاری تجارت اوربراعظموں میں پھیلا کاروبارانگلی کی پوروں پر زبانی ازبر رہتا تھا، ایک پائی کا حساب کسی کاغذ پر نہیں لکھا جاتا تھا اور نقد، قرض یا سود تمام معاملات ان کے حافظے میں تازہ رہتے تھے۔ عربوں کو اپنی پشتوں نسلوں، اپنے جانوروں تک کی نسلوں اور پشتوں تک کے نام اورحالات زبانی یاد ہوا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ان کے پاس موجود تلوارکی تاریخ انہیں زبانی یاد تھی کہ یہ تلوار کس کس کے پاس کب کب تک رہی، کس کس جنگ میں اس تلوار سے کس کس پروار کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ عربوں کے حافظے کا یہ کمال معجزات نبویﷺ میں سے ہے، سیرت نگاروں کے مطابق آپﷺ سے دوڈھائی سوسال قبل یہ حافظہ عربوں کو ملا اور تدوین حدیث نبویﷺ تک حافظے کی یہ قوت عربوں کے ہم رکاب رہی۔ گویا صدیوں سے صدیوں تک ایک خاص ہستی کے لیے ہی ایک اسٹیج تیارکیا جا رہا تھا۔
امام بخاری ؒپہلے طبقے سے روایت قبول کرتے ہیں دوسرے طبقے میں سے چھانٹی کرتے ہیں۔ پہلے طبقے سے مراد حدیث بیان کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہیں محدثین کے ہاں اولین مقام حاصل ہے۔ پہلے طبقے کے راویوں کی بیان کردہ احادیث کو اکابر محدثین کے ہاں قبول عام حاصل ہے، ایسے راویوں کی احادیث میں اعلی درجہ کی قبولیت کی شرائط پائی جاتی ہیں۔ محدثین کرام نے ایسی سندوں کو جن میں پہلے درجے کے راویان شامل ہوں “سندعالی” کہتے ہیں۔ جن احادیث کی سند عالی ہو اور راویان پہلے درجے میں گنے جاتے ہوں ان کو متنازعہ معاملات میں قول فیصل کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ آخری طبقے کے راوی پہلے درجے کے راویوں سے متضاد ہوتے ہیں، ان پرجھوٹ کی تہمت ہوتی ہے، حدیث کے وضع کرنے میں یعنی خود سے بات بنا کر نبیﷺ سے منسوب کرنے میں ماہر ہوتے ہیں اوربادشاہوں کی خوشنودی کے لیے یا اپنے فرقے کی ترویج کے لیے یا اپنے کاروبار کی بڑھوتری کے لیے نئی سے نئی باتیں تراشتے ہیں اور اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عام لوگ ان کی بات کو قول رسولﷺ ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ محدثین کا یہ عظیم الشان کارنامہ ہے کہ انہوں نے ایسی روایات کو بہت محنت کے ساتھ صحیح روایات سے الگ کردیا ہے۔
امام بخاری اور ان کے ہم عصر اور ہم پلہ دیگرمحدثین نے اول درجے کے راویوں سے اول درجے کی روایات قبول کیں اور ان کے مجموعے مرتب کیے۔بعد میں آنے والوں نے دوسرے درجے کی روایات کو جمع کیا، پھر تیسرے درجے کی روایات کو جمع کیا گیاعلی ہذا القیاس۔ یہاں تک آخری طبقے کی روایات بھی جو کہ نبیﷺ کے نام سے منسوب تھیں خواہ تراشی ہوئی یعنی موضوع تھیں انہیں بھی جمع کرلیا گیا اوران کے مجموعے بھی آج تک موجود ہیں۔ کم و بیش دو صدیوں تک احادیث کی جمع و تدوین کا کام جاری رہا اور ہرطرح کی روایت، خبر، اثراورحدیث کو کتابوں میں جمع کرکے تحقیق کے میدان کو تا قیامت وسیع کردیا۔ محدثین عظام نے ان روایات کو بیان کرنے والے کم و بیش ساڑھے پانچ لاکھ افراد کے حالات زندگی بھی جمع کیے، اس علم “اسماء الرجال” کہتے ہیں۔“اسماء الرجال” میں راویان حدیث کے نام، قبیلہ، ذریعہ رزق، ادایئگی نمازوں کی صورتحال، کھیل تماشا کی عادت، سچ یا جھوٹ بولنے کی ترجیحات، حافظہ، اس کے اساتذہ و تلامذہ، اس کی سیروسیاحت اور اس کی دیگرمحدثین ملاقاتوں کے احوال کے علاوہ اہل خانہ سمیت دیگرتمام تفصیلات تک موجود ہیں۔ دورحاضرمیں “اسماء الرجال” کو کمپیوٹر کے حافظے میں منتقل کیا جا چکا ہے چنانچہ آج کسی بھی حدیث پرتحقیق کرنا، اس کے راویوں کے حالات زندگی تک رسوخ کرنا نہایت سہل ہے۔ میدان حدیث کا اولین کام جان مارکرکیا جا چکا ہے لیکن اب ہرآنے والی نسل اپنے ظرف اور ہمت کے مطابق اس میں اضافہ کیے چلی جارہی ہے اور یہ سلسلہ اس زمین کے سینے پر طلوع ہونے والے آخری دن کے سورج تک جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کواپنی خاص جوار رحمت میں جگہ عطا کرے جو اس کے آخری نبیﷺ کی روایات کو جمع کرتے ہیں، انہیں بیان کرتے ہیں اور ان پر تحقیق و جستجو کے ذریعے اللہ تعالی کے دین میں سمجھ بوجھ پیداکرتے ہیں، آمین۔

امام بخاری ؒ سے بیس مزید کتب بھی منسوب ہیں، آپ نے صحابہ تابعین پر، تاریخ اسلام پر اور اصول حدیث پر بھی کتب یا چھوٹے چھوٹے رسالے مرتب کیے۔ “اصول حدیث” سے مراد حدیث کو قبول کرنے یا قبول نہ کرنے کے جملہ معیارات ہیں۔ امام حجرالعسکلانی کے نزدیک محدثین کے ہاں کم و بیش پانچ سواقسام حدیث ہیں۔ محدثین نے حدیث کی درجہ بندی میں بہت دقیق سے دقیق فرق پر بھی ان کی الگ سے تسویم کی ہے یعنی جداجدا نام دیے ہیں، اسی طرح کتب حدیث بھی مختلف ناموں سے موسوم کی جاتی ہیں، بعض کتب میں صرف ایک صحابی کی روایات جمع کی جاتی ہیں، بعض کتب میں ایک موضوع پرتمام روایات جمع کر دی جاتی ہیں، بعض کتب کو فقہی ترتیب کے مطابق مرتب کیا جاتا ہے اوربعض کتب میں ہر طرح کی احادیث درج کر دی جاتی ہیں۔ یہ اوراس طرح کی دیگر متعدد مباحث “فن اصول حدیث“ کے موضوعات ہیں۔ امام بخاری امت مسلمہ کے اندراس فن کے امام ہیں، ان سے شروع ہونے والا اصول حدیث آج تک مستند ہے اور ہمیشہ اسے قبول عام ہی رہے گا۔ امام بخاریؒ کی کل کتب میں یہی “الجامع الصحیح البخاری” المعروف “صحیح بخاری“ ان کی وجہ شہرت ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کتاب کی متعدد شروحات لکھی جا چکی ہیں۔ جس طرح قرآن مجید کی تفسیرہوتی ہے اسی طرح کتب احادیث کی شرح ہوتی ہے۔ امت کے ہر بڑے محدث نے بخاری شریف پر قلم اٹھانے کو اپنی سعادت سمجھا ہے۔ جس جس زبان میں قرآن مجید کے تراجم ہوئے تقریباََ ان تمام زبانوں میں بخاری شریف کے تراجم بھی موجود ہیں، کسی نے کل بخاری شریف کا ترجمہ کیا اور کسی نے اس کے اجزاء کا ترجمہ کیا، کسی نے کل بخاری شریف کی شرح لکھی اور کسی نے کچھ اجزا کی اور ایک بہت بڑی تعداد ہے جس نے بخاری شریف سے چالیس احادیث کا انتخاب “اربعین” کے نام سے شائع کیا۔ یہ سب لوگ ایک حدیث کے مطابق شفاعت رسولﷺ کے مستحق ہیں، اللہ تعالی ہمیں بھی ان میں شامل فرمائے، آمین۔

اپنی رائے ہمیں اس ای میل پر فراہم کریں
drsajidkhakwani@gmail.com