جہالت

تحریر : وقاص منہاس

کیا تعلیم جہالت کوختم کرنےمیں مدد دیتی ہے؟کسی بھی مہذب معاشرے سے سوال کیا جائے تو یقینا ً جواب یہ ہےکہ تعلیم یافتہ معاشروں میں جہالت کا عنصرکم کم نظرآتا ہے، لیکن افسوس ہمارے پاکستان میں صورتحال اسکےبرعکس نظرآتی ہے موجودہ ٹیکنالوجی کے دورمیں جہاں شرح خواندگی تعلیم کا معیار بہتر ہونے کا دعویٰ ہے وہیں جہالت کےفروغ سےبھی کسی کوانکارنہیں۔ سڑکوں پر طوفان بدتمیزی گاڑی چلانے سے لیکرپیدل چلنے والے تک ہرکوئی بھرپور جہالت کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے، ڈگریوں کے ہونےکے باوجود بھی آداب نام کی کوئی چیزبھی نظرنہیں آتی ۔ آج کا معاشرہ تعلیم زیادہ مگرآدب وآداب سےعاری۔

آئیےاب ایک نظرپرانےزمانے 60 یا 70 سال پہلے پر ڈالتے ہیں وہ بھی کیا دور تھا جب تعلیم عام نہ تھی شہر، گاوں میں صرف چند لوگ ہی تعلیم یافتہ ہوتے تھے، خط ڈاکیے پڑھ کر سنایا کرتے تھے، لیکن روداری، پیار محبت، صبروتحمل، قربانی ایثار، قوانین کی پاسداری، کیا سائیکل، اورکیا تانگے والے سب قانون کے مطابق رجسٹرڈ تھے، مجال ہےکہ کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا، اخلاق اورآداب سے بھرپورمعاشرہ، صرف اپنے گھرکےبڑوں کی ہی نہیں بلکہ محلے کےبڑوں کی عزت بھی فرض سمجھ کرکی جاتی تھی، اورایسی سمجھداری کی باتیں کہ جوبعد میں کہاوتیں بنیں، باوجود اسکےکہ تعلیم یافتہ نہیں تھے، ایسی تہذیب توصرف تعلیم یافتہ معاشرے میں پائی جاتیں ہیں، یہ سب کچھ انہوں نےکہاں سےسیکھا؟ اب سوال یہ اٹھتا ہےکہ کیا وہ والدین پڑھے لکھے تھے؟ نہیں! بالکل ان پڑھ تھےجنہوں نےاپنی اولاد کی اتنی زبردست تربیت کی کہ انکی اولاد وں نےمعاشرےمیں وہ مقام بنایاجوشاید ہی آنےوالےوقت میں کسی کونصیب ہو، ان میں علامہ اقبال، مرزاغالب، منشی پریم چند، علامہ مشرقی، اوربہت سےایسےنامورلوگ جنکےنام لکھوں تومیرےکالم میں اتنی گنجائش ہی نہ بچےکچھ اور لکھنےکی۔

اوپربیان کئےگئےحالات تضاد ہمیں یہ سوچنے پرمجبورکرتےہیں کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام ایک مہذب معاشرےکویاجہالت کوفروغ دینےکاباعث بنا ہوا ہے؟ یہ تعلیمی نظام کی خرابیاں ہیں، یہ وہ سوالات ہیں جن پرغورکرنا بہت ضروری ہے، ہم کوشش کرتےہیں ان سب سوالوں کےجواب اورانکےحل تلاش کرنی کی۔
یہاںپرمیں لارڈ میکالے برصغیرکےنظام تعلیم اورموجودہ رائج پینل کورٹ کےموجد کا ذکر کئے بغیریہ کالم بالکل ادھورا رہ جاتا ہے، لارڈ میکالےجوکےبرٹش پارلیمنٹ کےرکن تھے، وہ اپنی تقریربرٹش ہائوس آف پارلیمنٹ کی تقریرمیں کچھ یوں کہتے ہیں کہ میں نےبرصغیرکےمشرق اورمغرب سفرکیا ہےاوراس نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ ہندوستان کوفتح نہیں کیاجاسکتا کیونکہ ان کا نظام تعلیم،اخلاقیات، ثقافت، اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ ایسی قوتوں کوختم کرنا ناممکن ہے۔

اسکےساتھ ہی لارڈ میکالےنےہندوستانی قوم پرفتح حاصل کرنےکی ایک نشاندہی کی جس میں انہوں نےکہا کہ "اس قوم کوہراس چیزسےنفرت دلائی جائےجوان کی اپنی ہےاورہراس چیزسے پیارکرنا سکھایاجائےجوباہرکی ہو”، پوری قوم کی بجائےایسٹ انڈیاکمپنی کےانٹرپریٹرجوملازم ہیں ان میں یہ زہرپھیلا دیا جائے، اسکےبعد جن لوگوں نےانگریزبہادرکی خدمت کی انکوطنزیہ میکالےچلڈرن کہاجاتا۔

لارڈمیکالےکی حکم تعلمی کامیاب رہی ہم اپنےنظام تعلیم، ادب وآداب سے دورہوتے چلے گئے اتنا دورکہ اپنی شناخت کھوبیٹھے، ایساتعلیمی نظام رائج کردیا گیاجس سےجاہل تو پیدا کئے جا سکتےہیں اہل علم نہیں، بات کچھ یوں سمجھ میں آتی ہے آج ہم اہل تعلیم توہوئےلیکن اہل علم نہ ہوسکے،ہم نےاپنی میراث کھودی، دھوبی کا کتا نہ گھرکانہ گھاٹ کا ۔ہم ں سمجھ نہیں آتی کہ ہم کیا ہیں نہ ہم انگریزکی تہذیب کومکمل اپنا سکےنہ اپنی تہذیب کومکمل چھوڑسکے،آج ہم سےمکمل اردوکا فقرہ انگریزی کےالفاظ استعمال کئےبغیرادا نہیں کرسکتے۔

آج اگرضرورت ہےتواپنے مذہب، تہذیب، آباوؑاجداد پرفخرکرنے کی نہ کہ شرمندہ ہونے کی۔ جب تک بحیثیت قوم اپنےتابناک ماضی پرفخرکرنا نہیں سیکھیں گے ہم زندہ قوم نہیں بن سکتے۔

نوٹ: اوپربیان کئےگئےخیالات مصنف کے اپنے ہیں، ان سےادارے کا متفق ہوناضروری نہیں ہے۔ اگرآپکوبیان کی گئی تحریرسےاختلاف یا آپ اسکوآگےبڑھانا چاہتےہیں توآپ کالم نگارسےبذریعہ ای میل رابطہ کرسکتےہیں۔