دین کے وارثوں کو سلام

Dr. Farukh Shahzad

ڈاکٹر فرخ شہزاد

علماء دین کے وارث (Heirs of religion) ہیں۔ وہ دین کے محافظ ہیں۔ وہ اسلام کی تشریح کرتے ہیں، اسے دوسروں تک منتقل کرتے ہیں اور نسل در نسل اسلام کے پھیلاؤ کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ اگر علماء دین نہ ہوتے تو اسلام آہستہ آہستہ ناپید ہو جاتا یا دین سے نابلد افراد دین کی ایسی تشریح کرتے کہ اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتے۔ ہم اگر مسلمان ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ماں باپ مسلمان ہیں یوں ہم نسلی مسلمان ہیں۔ اگر ہم شعوری طور پر مسلمان ہیں تو ہمارے اندر یہ شعور علماء دین نے پید اکیا ہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ اسلام کا اصل مطلب کیا ہے اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن و سنت کی صورت میں دین کا پیغام دنیا تک پہنچایا۔ آپﷺ کے بعد دین کے وارثوں نے دین کو تھام لیا اور اسے ساری دنیا میں پھیلایا اور قیامت تک وہی یہ کام سر انجام دیتے رہیں گے۔

یہ تو تھا دین کے وارثوں کا ایک عمومی تعارف۔ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ دین کے وارثوں سے کہیں کوئی کوتاہی تو سرزد نہیں ہو جاتی یا ان کے کسی عمل سے اسلام کو نقصنا پہنچنے کا احتمال تو نہیں ہوتا یا ان کے کسی طرز عمل سے لوگ دین سے متنفر تو نہیں ہو جاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ دین کا وارث اپنے طرز عمل میں کوئی غلطی کرے۔ وہ سراپا دین کا نمونہ ہوتا ہے۔ اس کا چلنا پھرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، بات کرنا، تقریر کرنا، لوگوں سے معاملات کرنا، سیاست کرنا، دین کی تعلیم دینا غرض کہ ہر عمل اسلام کا عملی نمونہ ہونا چاہیے۔ جب عالم دین بات کرے تو کسی کو یہ موقع نہیں ملنا چاہیے کہ وہ اس کے انداز گفتگو یا گفتگو کے مواد پر اعتراض کرسکے۔ دین کی تشریح اور تبلیغ کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اترتا چلا جائے۔ ایک عالم دین کا مزاج ریشم کی طرح نرم ہونا چاہیے۔ اس کی شخصیت اتنی پرکشش ہونی چاہیے کہ لوگ شہید کی مکھیوں کی طرح اس کی طرف دوڑے آئیں۔ اس کی زبان میں ترقی اور اور مٹھاس ہونی چاہیے۔ اگر کوئی غیر مسلم یہ سوال کرے کہ میں نے اسلام سے ملنا ہے تو جواب دینے والا بے دھڑک کہے کہ چلو کسی بھی دین کے وارث سے مل لو وہ سراپا اسلام ہے اور اسلام کی آئیڈیل تصویر ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے شیطان چار سو سے اس پر حملہ آور رہتا ہے۔ وہ حضرت علیہ السلام پر حملہ آور ہوا اور کامیاب رہا۔ ہمارے پاس تاریخ اسلام کی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ شیطان نے بڑی بڑی ہستیوں کو ورغلایا اور وہ غلطیوں کے مرتکب ہوئے تو کیسے ممکن ہے کہ دین کے وارثوں پر شیطان کے وار ہمیشہ خالی جائیں۔ چنانچہ اس بات کا امکان ہے کہ ان سے چھوٹی موٹی غلطیاں ہوتی رہیں۔ تاہم زبان کی حفاظت کا معاملہ ایسا ہونا ہے جس سے چھوٹ کی گنجائش نہیں کیونکہ اگر آپ زبان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو پھرآپ دین کی صحیح نمائندگی نہیں کر سکتے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ٹاکروں اور مذاکروں میں دین کے وارث (Heirs of religion) سے ٹیڑھا ترچھا سوال کر دیا جاتا ہے تو وہ غصے میں آجاتے ہیں یا اگر مخالف فریق بدتمیزی کرے تو اس کے جواب میں تمیز کادامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ اسلام کے نمائندے کو یہ رویہ ہرگز اور ہر گز زیب نہیں دیتا۔ رویت ہلال کے معاملے میں جب کمیٹی کے سربراہ کے خلاف اخبار میں کلام لکھے گئے تو انہوں نے جواب دئیے ان میں نرمی تھی نہ محبت نہ دلپذیری۔ ان جوابات میں مخالف پر بھی الزامات لگائے گئے اور معاملہ ذاتیات تک پہنچا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اگر کوئی دین کے وارث (Heirs of religion) پر پتھر پھینکے تو اس کے جواب میں پھول پھینکنے چائییں کیونکہ وہ اپنی ذات کا نمائندہ نہیں ہے وہ اسلام کا نمائندہ ہے۔ اسلام سلامتی ہے اور پھولوں کا مذہب ہے۔ قومی سطح پر اٹھنے والا کوئی بھی مسئلہ جس کا دین سے بھی تعلق ہو اس میں بھی لغزش کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کرونا کی پہلی لہر کے دوران جبکہ اس میں اضافہ ہو رہا تھا ڈاکٹرز نے علماء کرام سے درمندانہ اپیل کی کہ وہ ابھی مساجد میں باجماعت نماز کا سلسلہ شروع نہ کریں۔ افسوس ان کی اپیل کو رد کر دیا گیا۔ کہا گیا کہ مساجد میں ایس او پیز پر عمل کیا جائے گا۔ شاید ہی کسی مسجد میں ان پر عمل کیا گیا ہو۔ کیا اللہ کے گھر کے معاملے میں اس بات کی گنجائش ہے کہ ہم وعدہ خلافی کریں اور طے شدہ امور پر عمل نہ کریں۔ یہ طرز عمل اسلام کے لئے شدید نقصان کا باعث ہے۔
بہت سی دینی جماعتیں سیاست میں حصہ لے رہی ہیں یہ چیز اسلام کے عین مطابق ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ سیاست او رمذہب کا کوئی تعلق نہیں ہے شاید ان کو معلوم نہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اورسیاست بھی اسی ضابطہ حیات کا حصہ ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔ لیکن دین کے وارث (Heirs of religion) جب سیاست کریں گے تو وہ اس میں دوسرے سیاسی گروہوں کا طرز عمل اور طریقہ کار اختیار نہیں کریں گے۔ وہ عام سیاستدانوں کی طرح ہاتھ اور بازو گھما گھما کر تفریق نہیں کریں گے۔ وہ الفاظ کے نشتر نہیں چلائیں گے۔ ان کے بیانات اسی شائستگی اور سنجیدگی کا نمونہ ہوں گے جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے۔ وہ ایسے وعدے نہیں کرے جنہیں وہ پورا نہ کر سکیں۔ وہ اپنے سیاسی طریقہ کار سے ساری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ یہ ہے اسلام کا طریقہ سیاست۔ کوئی ان کے انداز گفتگو یا طریقہ سیاست پر انگلی نہ اٹھا سکے گا۔ کیا ہماری دینی سیاسی جماعتوں نے یہی روش اختیار کر رکھی ہے؟
مختصر یہ ہے کہ دین کے وارثوں کو چاہیے کہ وہ اجتماعی طور پر خود احتسابی کرین۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ کہیں ان سے مختلف معاملات میں غلطیاں تو سرزد نہیں ہو رہییں یا اسلام کی سو فیصد صحیح تصویر پیش کرتے ہیں کہیں کوتاہی تو نہیں ہو رہی؟ اگرکوئی اسلام کے وارثوں پر انگلی اٹھائے تو ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اس نے صحیح انگلی اٹھائی ہے یا غلط۔ اگر انگلی صحیح اٹھائی ہے تو اسے مطمئن کرنے میں کوئی باقی نہیں چھوڑنی چاہیے اور اگر انگلی غلط اٹھائی تو اسے مغالطہ کا سو فیصد تسلی بخش جواب دینا چاہیے۔
کیا ہی اچھا ہو کہ ایک ملک گیر علماء کونسل تشکیل دی جائے تو اعتراضات کرنے والوں کے اعتراضات کا جائز ہ لیتی رہے۔ اور انتہائی خوبصورت طریقے سے ان کے جوابات دے۔ ہم نے یہ باتیں انتہائی خلوص اور دردمندی کے جذبہ کے تحت لکھی ہیں۔ اُمید ہے دین کے وارث (Heirs of religion)انتہائی ٹھنڈے دل سے ان گزارشات پر غور کریں گے۔
آخر میں ہم دو تجاویز پیش کریں گے اول یہ ہے کہ جمعہ کے اردو خطبہ کے لئے ایک سلیبس تجویز کیا جائے جس میں اسلام کی معاشرتی اور خانگی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ ﷺ کا مکمل احاطہ کیا جائے اس کے علاوہ قرآن و حدیث کے اسباق کا خلاصہ بھی بیان کیا جائے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ عربی خطبہ کے بعد اس کا اردو ترجمہ بھی سنایا جائے۔

مزیدخبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ ہم مارخور وزٹ کریں۔