خاندان : تہذیب کی اولین آماجگاہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ڈاکٹر ساجد خاکوانی

خاندان انسان کی پرورش کی سب سے پہلی سیڑھی ہوتاہے۔ یہ خدائی قانون ہے کہ انسان ایک خاندان میں آنکھ کھولتا ہے،اس کے برعکس متعدد مخلوقات ایسی بھی ہیں جو بغیرکسی خاندان کے پرورش پاتی ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کے بعد جنت جیسے مقام پر قیام عطا ہوا لیکن بغیر خاندان کے وہاں بھی آپ علیہ السلام کا دل نہ لگا اورآپ نے بار الٰہ میں تنہائی کی شکایت کی جس کے نتیجے کے طور پر آپ کوایک خاندان کی صحبت میسرآئی اورہماری اماں حواکا ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کو مرحمت ہوا جس سے پھرنسل انسانی کی بڑھوتری بھی ممکن ہوئی۔ زمین پراترنے کے بعد ہرسال ایک بیٹا اورایک بیٹی پیدا ہوتے اسی لیے حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت میں سگے بہن بھائیوں کا نکاح جائز تھا کیونکہ اس کے بغیرنسل انسانی کا چلنا ممکن ہی نہ تھا تاہم بعد کی آنے والی شریعتوں میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ چنانچہ پہلے سال کی بیٹی کے ساتھ اگلے سال کے بیٹے کا اوراگلے سال کی بیٹی کے ساتھ پہلے سال کے بیٹے کا نکاح کر دیا جاتا اور یوں اس کرہ ارض پر قبیلہ بنی آدم میں خاندانوں کا آغاز ہوا اور انسان کی نسل آگے کو چلنے لگی۔ انسان کی تاسیس کا یہی نظریہ درست اور صحیح ہے اور وحی سے ثابت ہے اور اب تو حیاتیاتی علوم کی تحقیقات بھی اسی نظریے کی حامی ہیں اور اسی کو مستند مانتی ہیں اس کے علاوہ انسان کی تاسیس کے جتنے بھی نظریے ہیں وہ مرقع جہالت اور کوتاہ نظری پر مبنی ہیں۔
اللہ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں سورۃ نساء کے اندرفرمایا کہٰٓأَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا َربَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَ بَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا(۴:۱) ترجمہ: “لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اورعورتیں دنیا میں پھیلا دیے اوراللہ تعالی سے ڈرو جس کا واسطہ دے کرتم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو اور رشتہ داروں (کی حق تلفی)سے ڈرویقین جانواللہ تعالی تمہاری نگرانی کررہاہے”۔ یہ گویا انسانی خاندانوں کی ابتدا کا پس منظر بیان کیا گیا کہ کس طرح ایک آدم علیہ السلام سے اللہ تعالی نے اپنی شان تخلیقی سے پوری دنیا کو انسانوں سے بھر دیاہے۔ یہ سلسلہ جس طرح ماضی میں ہردور، ہروقت اور ہر قسم کے حالات میں جاری رہا اسی طرح آج بھی ہے اور اسی طرح آخری انسان کی پیدائش تک جاری رہے گا کہ یہی قدرت خداوندی ہے اور یہی منشائے ربانی ہے۔ اللہ تعالی خاندان کی ابتدا ماں باپ سے کرتا ہے۔ دوجانیں باہم مل کر ایک گھر کی بنیاد رکھتے ہیں پھر انکے ہاں اولاد جیسی نعمت پیدا ہوتی ہے جہاں سے بہن اور بھائی کے رشتے جنم لیتے ہیں، یہ بہن بھائی بڑے ہوکرجب شادیاں کرلیتے ہیں تو بہنوئی، داماد اور بہوجیسے سسرالی رشتے داریاں جنم لے لیتی ہیں اور خاندان اپنی وسعتوں کو چھونے لگتا ہے یہاں تک کہ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں خوشبو کی حقیقت کے وہ استعارے ہیں جن سے انسان کا باغیچہ مہک اٹھتا ہے اوروہ اپنی لہلہاتی فصل کو دیکھ کر پھولا نہیں سماتا ہے۔ دادا، دادی اورنانا، نانی پیاراورمحبت کے وہ پیمانے ہیں جن میں الفت ومحبت کے جام چھلکنے لگتے ہیں اوردنیا کی کسی لغت کا دامن اس چھلکتے ہوئے جام کی آسودگی و تراوٹ کو اپنے اندر سمونے سے قاصر ہے۔
اللہ تعالی نے سورۃ الحجرات میں میں بھی خاندانوں کا ذکرکیا اور فرمایا کہ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآءِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۹۴:۳۱) ترجمہ: “لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اورپھرتمہاری قومیں اوربرادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ تعالی کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ تقوی والا ہے یقیناََ اللہ تعالی سب کچھ جاننے والا اورباخبر ہے”۔ خاندان بعض اوقات تکبر اور فخروغرور کی علامت ہوتا اور بعض اوقات اسکے برعکس بھی ہوتا ہے، قرآن مجید نے اسکا تدارک کیا ہے کہ برہمن خاندان اس لیے عزت والا نہیں ہے کہ وہ برہمن ہے اورشودر اس لیے نیچ نہیں ہو سکتا کہ اس نے کسی شودر کے گھر میں جنم لیاہے، یہ خالصتاََ اللہ تعالی کے فیصلے ہیں کہ کس نے کس کے ہاں پیدا ہونا ہے، کوئی بچہ اپنی مرضی سے کسی کے ہاں وارد ہو سکتا ہے اور نہ کوئی والدین اپنی مرضی سے بچوں کا انتخاب کر سکتے ہیں پس جس خدا نے اپنی مرضی سے خاندانوں کی تقسیم کی ہے اس کا حکم ہے کہ خاندان کسی عزوشرف کی بنیاد نہیں ہو سکتے بلکہ یہ صرف پہچان کے لیے ہی ہیں کہ جب ایک ہی نام کے متعدد افراد ہوں گے تو وہ اپنے خاندان، قبیلے یا نسل کی بنیاد پر پہچانے جائیں گے۔ خاندانی تفاخر دورجہالت کی یاد تازہ کرتا ہے جب کہ عزت کا معیارصرف تقوی ہے کہ کوئی اپنے رب سے کس قدر قریب تر ہے۔ اگر بلا ل حبشی رضی اللہ عنہ میں تقوی موجود ہے تو وہ خاندانی کمتری کے باوجود عزت ووقار میں ابو جہل سے کہیں بڑھ کرہیں جس میں شاید دنیا بھر کی خاندانی وجاہت سمٹ کر جمع ہو چکی تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ “تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے ساتھ اچھا ہے اور میںﷺ بھی اپنے گھروالوں کے ساتھ اچھا ہوں”ّ۔ گویا انسان کا بہتر یا بدترہونادراصل اسکے گھروالوں کے ساتھ رویے پرمنحصرہے، دوستوں کے ساتھ، افسر کے ساتھ اوردکان والوں کے ساتھ تو سبھی بہتر ہوتے ہیں لیکن اپنا خاندان، اپنے بچے، اپنی بیوی، اپنے والدین اوراپنے سسرال کے ساتھ کون اچھا ہے؟؟ یہ اصل سوال ہے۔ ایک بارحضرت عائشہ رضی اللہ عنھاجوعمرمیں ابھی کم سن تھیں انہوں نے تماشا دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا، آپ ﷺ نے انہیں جھڑکنے یا منع کرنے کی بجائے اورباپ یا بھائی سے یہ تقاضا کرنے کی بجائے آپﷺ نے خود انکی یہ خواہش پوری کی اورحکم حجاب کے باعث دروازے میں آگے کھڑے ہو گئے اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنھا آپﷺ کے کندھے سے تماشا دیکھتی رہیں، کافی دیر گزر چکنے کے بعد آپﷺ نے دریافت کیا کہ کیا تماشا دیکھ لیا؟؟ بی بی صاحبہ نے جواب دیا کہ نہیں ابھی اور بھی دیکھنا ہے، ظاہر ہے اس عمر میں دل کہاں بھرتا ہے۔ سب سے بڑے انسانﷺ اس وقت تک کھڑے رہے جب تک کہ بی بی صاحبہ کا دل نہ بھر گیا۔ بی بی فاطمہ خاتون جنت سے آپ ﷺ کی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جب بھی وہ تشریف لاتیں تو آپﷺ انکے حب واحترام میں اٹھ کھڑے ہوتے اور ان کے ماتھے پر بوسہ بھی دیتے، حسنین کریمین شفیقین محترمین تو آپ کو جان سے عزیزتر تھے، آپﷺ انکو اپنے کندھوں کی سواری کراتے تھے اورانہیں جنت کے نوجوانوں کے سرداربھی قرار دیا۔ غزوہ حنین کے موقع پر کم و بیش چھ ہزار افراد غلام بنائے گئے تھے، اس موقع پرآپﷺ کی رضاعی بہن کو لایا گیا انہوں نے آپﷺ سے ملاقات کی اورعرض کیا کہ بچپن میں آپﷺ نے ان کی کمر پردندی کاٹی تھی جس کا نشان آج بھی وہاں پر موجود ہے، اس بہن نے ان قیدیوں میں سے چند کی سفارش کی جنہیں محسن نسواںﷺ نے آزاد کر دیا جب یہ بہن باہر تشریف لائیں تو چھ کے چھ ہزار قیدیوں کے رشتہ دار منت سماجت کرنے لگے کہ خدارا ہمارے قیدیوں کو بھی چھڑالاؤ، یہ بہن اپنے عظیم بھائیﷺ کے پاس پھرحاضر ہو گئیں اورکل قیدیوں کی رہائی کی بابت سفارش کر ڈالی تب اس بھائیﷺ کی شان ملاحظہ ہو کہ کمال شفقت ومہربانی سے کل قیدیوں کو رہائی عطا کر دی، کیسا شاندار بھائیﷺ اور کتنی ہی محبت والی بہن، یہ آسمان شاید پھر کبھی نہ دیکھ سکے۔ یہ رضاعی خاندانی محبت کی ایک مثال ہے۔
خاندان کی پرورش اللہ تعالی کے نزدیک بہت عمدہ عمل ہے آپﷺ نے بیٹیوں کی پرورش پر جنت کی خوشخبری دی ہے، صالح اولاد کو صدقہ جاریہ قرار دیا، حافظ قرآن وحافظہ قرآن کووالدین کی شفاعت کا مژدہ سنایا، شہید کی ماں کے دامن کو خدا کی رحمت سے بھر بھر دیا اورسخت تاکید کی کہ اپنی اولاد کو اللہ تعالی کا فرمانبرادار بنائیں اورانہیں سات سال کی عمر سے نماز کی تلقین شروع کر دیں اور دس سال کی عمر میں ان پر سختی کرنے لگیں تاکہ نماز کے معاملے میں وہ سستی سے باز آجائیں۔ ہم میں سے ہر کوئی گلہ بان ہے اور اسکے گلے کے بارے میں ہم سے سوال ہوگا۔ ہمارا گلہ ہمارا خاندان ہے ہم اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ ہمارے خاندان میں غیرشرعی رسوم و رواج جگہ تونہیں پارہے؟؟ ہمارے خاندان میں دولت کے بل بوتے پر ایسی روایات تو جنم نہیں لے رہیں جنہیں مقابلۃ غریب رشتہ دارگھرانوں کو پوراکرنا مشکل ہو جائے؟؟ ہمارے خاندان کا رویہ قطع رحمی کا باعث تو نہیں بن رہا؟؟ ہمارے گھر میں سکرین کا استعمال کیا خدا اوراسکے رسول ﷺ کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہے؟؟ اورکیا ہم اپنے خاندان کو دنیا کے رنگ میں رنگ رہے ہیں یا اللہ تعالی کے رنگ میں اورآخرت کا طلب گار بنا کر قرب خداوندی کا باعث بن رہے ہیں؟؟
یورپ اپنی سیکولرسوچ کے باعث آج اپنے خاندانی نظام کو تباہ کر بیٹھا ہے اور اسکی بہت سی وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ آزادی نسواں کے نام پرآزادی زنا ہے، اب عمائدین یورپ اپنی پشتوں اورنسلوں کی بقا کے لیے مجبور ہیں کہ خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے سال بھر میں ایک دن اس مقصد کے لیے منائیں تاکہ سیلاب، زلزلوں اورطوفانوں میں وہاں کے لوگ اپنے والدین اور بزرگوں کو حالات اورریاستی اداروں کے سپرد کرکے اپنے کتوں اوربلیوں کے ساتھ بھاگنے کے رویے سے باز آجائیں۔ سیکولرازم کے اس رویے نے انسان کو جانورسے سے بھی بدتر بنا دیا ہے کیونکہ حلالی اورغیرحلالی کے مٹتے ہوئے فرق نے انسانی خاندانی اعلی روایات کی جگہ پیٹ کی خواہش اورپیٹ سے نیچے کی خواہش نے لے لی ہے۔ اس کے مقابلے میں مشرق و ایشیا میں انبیاء علیھم السلام کا آغاز کردہ “نکاح” کا ادارہ اپنے جملہ حدود وقیود کے ساتھ موجود ہے، دینی و مذہبی شعورکے باعث یہاں کے گھروں میں دن کا آغازکسی بڑے کی آواز سے بیداری کے بعد شروع ہوتا ہے اوردن کا انجام گھرکی بڑی بزرگ خاتون کی کہانی یا لوری سے اختتام پزیرہوتا ہے۔ انسانیت بلآخرانبیاء علیھم السلام کی تعلیمات کی طرف ضرورپلٹے گی اورہرچڑھتا ہوا سورج خاندان کی عظمت و برتری کا سورج ہوگا اور خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کسی ایک دن کے منانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

اپنی رائے ہمیں اس ای میل پر فراہم کریں
drsajidkhakwani@gmail.com