فلسفہ شہادت

از مولانا سیدمحمد شاہ قطب الدین حسینی ؒ
سجادہ نشین شاہ حضرت شاہ خاموش صاحب قبلہ ؒ

حضرت امام حسین علیہ السلام جگر گوشہ سردار الانبیاء سید المرسلین ﷺ کی شہادت سے صدیوں قبل مگر یوم عاشورہ سے صرف ایک ہی ماہ پہلے ماہ ذی الحجہ الحرام میں حضرت ابو الانبیاء ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے اکلوتے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنے دست مبارک سے حکم الہی پر قربان کیا تھا۔دجلہ اور فرات کے سنگم پر شہر کلدانیہ جہاں نمرود ی طاقتیں کارفرما تھیں ظلم واستبداد کا دور دورہ تھا جہاں بت پرستی اور کواکب پرستی معاشرے کی بنیادیں تھیں ایک بندہ خدا حضرت ابراہیم نے تمام فانی طاقتوں سے صرف نظر فرماکر حق وصداقت کا علم بلند کیا صرف خالق کائنات کی پرستش اور عبادت کو انسان کی زندگی کا واحد اصول قرار دیا اس موجد أعظم کو دشمنوں اور مخالفین کی کار کردگیوں سے بھی دوچار ہو نا پڑ ا آتش نمرود میں کودنا پڑا۔

مگر حق پرستی سے اس نے منہ نہ موڑا،بالآخر اس کے مالک نے ایک بڑے امتحان میں اپنے خلیل کو مبتلا کردیا کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو اپنے بڑھاپے میں ہاتھ سے ذبح کردیں حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ بھی کر چکے”قد صدقت الرؤیا انا کذالک نجزی المحسنین“حسن عمل رکہنے والے ابراہیم علیہ السلام نے فرمانبدرداری کی انتہاء کردی صاحبزادے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری پھیر دی،”وفدیناہ بذبح عظیم“ پروردگار جس کی نظر میں بندہ کی صورت‘سیرت قلبی حالت سب کچھ رہتی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فرمانبرداری کو تاڑ گیا اور اپنے فضل وکرم سے اسماعیل کو بچالیا اور یہ کیسے ہو تا کہ حضرت اسماعیل کو نہ بچاتا،اس نے پھر اسماعیل میں نور محمدی موجودتھا جس کو اپنے وقت پر ظہور فرماکر تمام نوع انسانی کو عالمیں کے بسنے والوں کو توحید باری کا اور وحدت انسانی کا درس دینا تھا۔ اگر اسماعیل اس وقت ذبح ہوجاتے تو نسل منقطع ہوجاتی،افضل الانبیاء کی بعثت کیسے ہو سکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کاپایہ دین ابراہیمی ہے تو عمارت دین محمدی ہے۔ حضرت اسماعیل کی نسل میں ختم المرسلین ہوتے ہوئے مشہور اور مسلمہ بات ہے کہ (وار مرداں خالی نرود) مالک کائنات آقا ئے حقیقی کا وا ر کیسے خالی جاسکتا تھا،بنظر غائر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ مالک کا وار خالی نہیں گیا بلکہ تھم گیا تھا تا کہ خاتم الانبیاء کی آمد ہو۔اور نوع انسانی کے دین طریقہ حیات کو مکمل کردے اور نعمت الہی کا اتمام فرمادے اور ابراہیم واسماعیل علیہما السلام نے (اسلما)منشاء ایزدی کے آگے سر تسلیم کردیا تھا،اور اپنی زندگی اور موت اپنا جینا مرناا پنے ہر عمل کو زندگی کی ہر حرکت کو پروردگار کیلئے وقف کردیاتھا۔”ان صلواتی ونسکی ومحیای و مماتی للہ رب العالمین“۔اسی پسنددیدہ اصول زندگی (اسلام) کو سارے عالم کیلئے نافض کرنا تھا۔

نئے نے کہ ہمیں بود کہ می آمد ومی رفت ہر قرن کہ دیدیم تا عاقبت آں شکل عرببوار بر آمد‘دارائے جہاں شد
نور محمدی کے ظہور کیلئےء مالک کا وار تھم گیا،اسماعیل کا مکہ سے بچا لیا گیاختم المرسلین کے ظہور کے بعد ہی اس وار کی تکمیل ممکن تھی،مگر یہاں آکر ایک گتھا اور سلجانا تھا کہ سردار الانبیاء کو جو علمائے حق کے سب سے بڑے اورآخر علمبردار تھے حق کو باطل کے ہاتھوں کس طرح شہید کروانا تھا کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ اس لئے ارشاد ربانی ہوا کہ ”واللہ یعصمک من الناس“سردار الانبیاء کی قربانی بھی قرین مصلحت نہ سمجھی گئی اس لئے حضور مقبول ﷺ کو بھی محفوظ رکھا گیا۔آپ یہ جانتے ہیں کہ کھانا پینا شادی بیاہ کرنا نسل قائم کرنا،دیگر ضروریات جسمانی کی تکمیل کرنا،اس کا تعلق جسم اور مادے سے ہے،اور تعلیم وتعلم‘تربیت‘ابویت
اخلاقی کردار،روحانیت کا تعلق نفس رحمانیہ سے ہوتا ہے اس تعلق سے خاتم الانبیاء ﷺ حضرت حسنین علیہما السلام کے نفوس رحمانیہ کے مبدا اور اصل ہیں۔ حضرت امام حسن علیہ السلام رسول خدا ﷺ کی جامانیت کے مظہر ہیں۔جن پر مالک کے وار کی جو تھما ہوا تھا تکمیل ہوئی، شہادت سری حضرت امام حسن علیہ السلام کیلئے اور شہادت جھری حضرت امام حسین علیہ السلام کیلئے مقدر ومقدور فرمادی گئی۔حضرت امام ہمام حسن علیہ السلام نے علانیہ شہادت پائی آپ پر اور آپ کے سارے خاندان پر جو مصائب وآلام دشمنان حق نے توڑے وہ بھی ظاہر و باہر ہیں۔ان کا بیان تحصیل حاصل ہے،البتہ ان کڑی آزمائیشوں سے ان سخت مظالم کے جاننے سے حضرت امام ہمام کا صبر واستقامت کس درجہ تھا،اس کا اندازہ ضرور لگ جاتا ہے۔پتہ زخم جگر کا خنجرقاتل سے ملتا ہے”ولنبلونکم بشیئ من الخوف والجوع و نقص من الأموال والئانفس والثمرات وبشر الصابرین،الذین اذا أصابھم مصیبۃ قالوا انا للہ وانا الیہ راجعون“پروردگار اپنے خاص خاں بندوں کی آزمائش امتحان جس جس قسم کی جس جس نوعیت سے لیتا ہے حضرت امام حسین علیہ السلام سب آزمائیشوں سے انتہائی صبر واستقامت کے ساتھ گزر گئے۔بوقت شہادت اپنے سر کو سجدہ میں رکھکر (انا للہ وانا الیہ راجعون) خاصان خدا رجوع بحق کس صبر وشکر کے ساتھ ہوتے ہیں،اور ان کی زندگی اور دعوت سب اپنے مالک کیلئے کس طرح حوتی ہے یہ باطل پرست دنیا کو دکھادیا”اولئک علیہم صلوۃ من ربہم ورحمۃ“حق وصداقت کی علمبردار ی صبر واستقامت سے جن لوگوں نے کی ہے وہی لوگ ہیں جن پر پروردگار کی رحمت اور صلوات نازل ہوتی رہتی ہیں۔ہم کو بھی ان نفوس قدسیہ پر درود وسلام بھیجانا چاۂے،”ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون“۔

زبان سے بھی بھول کر ان حق وصداقت کے جان نثاروں کو عام لوگوں کی طرح نہ سمجھنا چاۂے ورنہ حکم الہی کی تکذیب ہوگی۔ اور دل سے ان کو زندہ جاننا قاۂے،تاکہ قرآن عزیز کی تصدیق ہم دل سے کرسیکیں،خواہ ان کی موجودہ زندگی کی نوعیت کو سمجھنے سی ہماری عقلیں قاصر ہی کیوں نہ رہیں مگر اتنا تو ہم ضرور جانتے ہیں کہ آج صدیوں بعد بھی وہ ہمارے قلوب میں زندہ ہیں اور رہینگے۔