دعا زہرا کے والد نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست واپس لے لی

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے دعا زہرا (Dua Zahra)کے والد مہدی کاظمی کے وکیل کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا پر کیس نمٹا دیا۔

مہدی کاظمی کی جانب سے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دائر درخواست پر جسٹس سجاد علی شاہ نے سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں میڈیکل بورڈ کیلئے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ کیس ہمارے دائرہ کار میں نہیں، میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے مناسب فورم سے رجوع کرسکتے ہیں۔
دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر کی میڈیا ٹاک
وکیل مدعی جبران ناصر نے کیس کا فیصلہ آجانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے کہا ہے عمر کے تعین کی رپورٹ کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

وکیل جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ہم عمر کے تعین کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کی درخواست دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیکریٹری صحت درخواست منظور نہیں کرتے تو سندھ ہائیکورٹ جائیں گے، ہمیں امید ہے کہ میڈیکل بورڈ کا فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔

وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ دعا زہرا سے ایک جھوٹ بولوایا گیا تھا۔

اس سے قبل جسٹس سجاد علی شاہ نے سماعت میں دلائل مکمل ہوجانے کے بعد ریمارکس دیئے تھے کہ آپ کی درخواست پر آج ہی کوئی فیصلہ جاری کریں گے۔

وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ کیس کا فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد وقفے کے دوران عدالت نے وکلاء کو پیغام بھیجا کہ سماعت دوبارہ ہوگی۔

اس موقع پر سپریم کورٹ نے دعا زہرا کے والدین اور وکلاء کو دوبارہ بلا لیا۔

کیس کی آج ہونے والی سماعت کا احوال
عدالت نے درخواست گزار دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی سے آج ہوئی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ دعا زہرا کی والدین سے ملاقات کرائی گئی تھی ؟

والد مہدی کاظمی نے عدالت کوجواب میں بتایا کہ 5 منٹ کے لیے پولیس کی موجودگی میں چیمبر میں ملاقات ہوئی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ نے میڈیکل کو چیلنج کیا ہے؟

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ میڈیکل عدالت کے حکم پر ہوا ہے میڈیکل بورڈ بنا تھا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا آپ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بیٹی کو بازیاب کرایا جائے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے بازیابی کی درخواست نمٹا دی تھی، انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کسی اور عدالت میں ابھی تک کیس زیر سماعت ہے؟

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے سیکریٹری صحت کو اس سے متعلق خط لکھا ہے، جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں قانونی نکات پر عدالت کی معاونت کریں۔

وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ پولیس نے اغواء کا کیس سی کلاس کردیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ فیملی کورٹ میں شادی کو چیلنج کیا جاتا ہے، لڑکی نے ہائیکورٹ اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا ہے۔

وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ نکاح خواں اور ایک گواہ گرفتار ہیں۔

واضح رہے کہ دعا زہرا کے والد نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گزشتہ روز ایک اور درخواست دائر کی تھی۔

دعا زہرا کے والد نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ دعا نے اپنے انٹرویو میں ملک سے باہر جانے کا ذکر کیا ہے، دعا کو میڈیا پر انٹرویوز اور ملک سے باہر جانے سے روکا جائے، بیٹی کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

اس سے قبل 18 جون کو مہدی کاظمی نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں خامی ہے، ہائیکورٹ نے 8 جون 2022 کو دعا زہرا کو اسکی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کے بیان اور میڈیکل ٹیسٹ کی بنیاد پر فیصلہ سنادیا ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ میں دعا زہرا کی عمر 17سال بتائی گئی ہے۔

درخواست گزار نے بتایا کہ نادرا ریکارڈ ،تعلیمی اسناد کے مطابق دعا زہرا کی عمر 14سال ہے ۔