ماہ رمضان کو ضائع نہ کریں

ڈاکٹر فرخ شیزاد

گذشتہ سال جب رمضان کا مہینہ ختم ہوا تو اللہ کے بے شمار بندے پریشانی میں مبتلا تھے یہ سوچ کر کہ رحمتوں اور بخشش کا مہینہ رخصت ہو گیا۔ کتنے ہی لوگ تھے جو اگلے رمضان کا انتظار کرنے لگے۔ بہت سے لوگوں نے یہ بھی سوچا کہ اس بار بہت سی کوتاہیاں ہو گئیں اور رمضان کا حق ادا نہ ہو سکاجس کی وجوہات میں بے توجہی، سُستی اور اس احساس کی کمی کہ رمضان کا مہینہ ضائع نہیں ہونا چاہیے شامل ہیں۔

سال میں ہزاروں مسلمان اللہ کو پیارے ہو گئے اور وہ اگلے رمضان کی رحمتوں او ر برکتوں سے محروم ہو گئے۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بہت سے اگلے رمضان کا انتظار کر رہے ہوں لیکن موت نے انہیں سینے سے لگا لیا اور وہ چل بسے۔ اس ساری تمہید سے کیا نتیجہ اخذ ہوتا ہے۔ یہ نتیجہ کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس سال رمضان کا مہینہ دکھا رہے ہیں انہیں اللہ کی اس مہربانی پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کا احسان مند ہونا چاہیے۔ ان خوش قسمت لوگوں کو اللہ ایک اور موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ اپنے گناہ معاف کروالیں اور اپنی بخشش کروا لیں۔ انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ معلوم نہیں اگلا رمضان دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں۔ اس لئے وہ تہیہ کر لیں کہ رمضان کی ہر ساعت اللہ کی امانت ہے اور اس بار امانت میں کوئی خیانت نہ ہوگی۔ سارا مہینہ کئی کئی ہزار گنا زیادہ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی رہیں گی اور ہر طرح کی نیکیوں کا اجر کئی گناہ زیادہ بڑھا دیا جائے گا اور اللہ ہر نیک و بد کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ اپنے گناہ معاف کروالے اور اپنی بخشش کروا لے۔

جو لوگ یہ مہینہ پائیں او ر پھر بھی اپنی بخشش نہ کر وا سکیں انہیں یہ حدیث سن کر لرز جانا چاہیے۔ "رسول اکرم ﷺ منبر رسالت پر رونق افروز ہوئے تو آپ ﷺ نے تین بار آمین کہا” صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا۔ "اے اللہ کے رسول ﷺیہ کیا ماجرا ہے کہ آپ نے تین بار آمین کہا”۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ جبریل امین نے بددعا کی کہ "برباد ہو وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اپنی بخشش نہ کروا سکے”۔ میں نے کہا "آمین”۔ پھر جبریل نے کہا”برباد ہو وہ شخض جو اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور پھر ان کی خدمت کرکے اپنی بخشش نہ کروا سکے” میں نے کہا آمین۔ پھر جبریل نے کہا "برباد ہو وہ شخص جس کے سامنے اللہ کے رسول ﷺ کانام لیا جائے وہ ان پر درُود نہ بھیجے” میں نے کہا آمین (مستدرک حاکم حدیث نمبر19)۔ احادیث تو بہت زیادہ ہیں لیکن آپ اس حدیث کو بار بار پڑھیں بلکہ ماہ رمضان میں روزانہ صبح اٹھنے کے بعد اس حدیث کو پڑھیں تاکہ لغزش اور کوتاہی کی کوئی گنجائش نہ رہے اور جب دن ختم ہو تو رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال ہو چکے ہوں اور اگلے دن یہ سلسلہ پھر شروع ہو جائے۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمتوں کا ہے او ر رحمتیں اسی صورت سمیٹی جا سکتی ہیں جبکہ دل میں اس کی شدید خواہش موجود ہو۔ دوسرا عشرہ گناہوں سے توبہ کا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ ہم اپنے گناہوں کے بارے میں سوچ کر شرم سے پانی پانی ہو جائیں۔ تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا ہے اور یہ اسی طرح ہو سکتی ہے جبکہ جہنم کے خوف سے ہم لرز رہے ہوں۔ چلتے پھرتے رمضان کے ہر عشرے کی مخصوص دعا پڑھتے رہیں۔ تہیہ کر لیں کہ اس بار ماہ رمضان کا پورا پورا حق ادا کرنا ہے اور مہینے کو ضائع نہیں کرنا۔ آپ کا یہ فیصلہ اللہ کے ہاں قبولیت حاصل کر لے گا اور وہ آپ کو سارا مہینہ صحیح راستے پر چلاتا رہے گا اور جب مہینہ ختم ہو گا تو آپ کی بخشش کا پروانہ جاری ہو جائے گا (انشاء اللہ)۔ ماہ رمضان کا حق ادا کرنے کیلئے ہمیں مندرجہ ذیل اقدامات کرنا ہوں گے۔
1۔ روزہ کا حق ادا کرنا:
سحر سے مغرب تک بھوکا پیاسا رہنے کا نام روزہ نہیں ہے۔ روزہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ جس طرح آپ اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے کھانے پینے سے گریز کرتے رہے اسی طرح آپ کا سارا دن تقویٰ کی حالت میں گزرے۔ ہمارا دل اللہ کی طرف رجوع کے حقیقی جذبے سے موجزن رہنا چاہیے۔ روٹی اور پانی کی طرح ہمیں ہر برائی سے بھی ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔ ہمارے دل میں ہر وقت یہ شدید خواہش موجود رہنی چاہیے کہ دن اور رات میں کسی لمحہ بھی کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔ جھوٹ، مکرو فریب، بے ایمانی، بد اخلاقی، غیبت اور دوسرے گناہوں سے اجتناب کا جذبہ ہر وقت موجود رہنا چاہیے۔ ہمارے کان گناہ والی باتیں سننے سے گریز کریں۔ ہماری آنکھیں بری چیز اور برے کام دیکھنے سے اجتناب کریں۔
ہماری زبان پر ہر وقت اللہ کا ذکر جاری رہے اور کوئی بری بات زبان سے نہ نکلے۔ اگر ہمارے ذہن میں یہ احساس جگہ بنائے رکھے کہ میں روزہ سے ہوں اور مجھ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہونا چاہیے تو گناہ سے بچا جا سکتا ہے او ر یہی روزہ کا مقصد ہے۔

2۔ کھانے اور پینے کے آداب:
ہم سحری میں خوب پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور افطاری میں دنیا بھر کے لوازمات سامنے رکھ لیتے ہیں۔ جتنی خوش خوراکی رمضان میں ہوتی ہے سال بھر میں نہیں ہوتی۔ آپ کھائیں اور پئیں لیکن یہ نہ سوچیں کہ سارا دن کچھ کھایا پیا نہیں اب روزہ افطار کرنے پر اس کی کسر پوری کرنی ہے۔ افطار کے وقت کھانے پینے کی چیزوں پر ٹوٹ پڑنے والا معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔ غریبوں کو سحری اور افطار ی کرانے کا لازمی اہتمام کریں۔

:3۔ مسنون دعائیں
یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کی طرف نہ کوئی توجہ دیتا ہے نہ کوئی توجہ دلاتا ہے۔ ہم جو بھی کام کریں گے اس کے شروع میں اور آخر میں مسنون دعائیں پڑھ لیں تو ہمارا وہ پورا کام عبادت بن جاتا ہے۔ ہم سونے سے پہلے وہ دعائیں پڑھیں جو رسول اکرم ؐ کا معمول تھیں تو ہماری ساری نیند عبادت میں شمار ہوگی۔ صبح اٹھ کر اللہ کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا۔ رفع حاجت جائیں تو خبائث سے پناہ مانگیں۔ رفع حاجت کے بعد اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہماری تکلیف کو رفع کیا اس طرح ہماری رفع حاجت بھی عبادت میں شمار ہو گی۔ کھانا شروع کریں تو بسم اللہ پڑھیں کھانا ختم کریں تو اللہ کا شکر ادا کریں۔ اس طرح ہمارا کھانا پینا بھی عبادت میں شمار ہو گا۔ گھر سے باہر نکلیں تو اللہ پر توکل کرکے نکلیں۔ سواری پر بیٹھیں تو سفر شروع کرنے کی دعا پڑھیں۔ منزل پر پہنچ کر شکرانے کی دعا پڑھیں۔ اس طرح ہمارا سفر بھی عبادت بن جائے گا۔ ہم چل پھر رہے ہوں یا کام کر رہے ہوں تو سارا دن اس عشرے کی مخصوص دعا پڑھتے رہیں۔ کام سے واپسی پر جب گھر میں داخل ہوں تو آیت الکرسی پڑھیں، درُود شریف پڑھیں اور گھر میں داخل ہونے کی دعا پڑھیں۔ دعا پڑھ کر روزہ افطار کریں اور افطار کے دوران اللہ کی عطا کردہ کھانے پینے کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی دعائیں ہیں جنہیں یاد کرنا بہت ہی آسان ہے۔ ان میں وہ دعائیں بھی شامل ہیں جو طلوع صبح اور اختتام دن پر پڑھی جاتی ہیں۔ ہر دعا اللہ کی رحمتوں کے نزول کو دعوت دیتی ہے اور رمضان تو رحمتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے اور ان دعاؤں نے رحمتیں سمیٹنا بہت آسان بنا دیا ہے۔

4۔ نمازوں کا حق ادا کرنا:
نماز کے حق کی ادائیگی اسی وقت شروع ہو جاتی ہے جب مؤذن اذان دیتا ہے ہمیں پوری توجہ سے اذان کو سننا چاہیے اور رسول اکرم ﷺ کے حکم کے مطابق ہر جملے کا جواب دینا چاہیے۔ اذان کے بعد رسول اکرم ﷺ کیلئے مقام محمود کی دعا مانگنی چاہیے۔ یہ دعا پڑھنے والے کو رسول اکرم ﷺ نے اپنی شفاعت کی بشارت دی۔ ہمیں نماز باجماعت پڑھنی چاہیے اور اذان ختم ہوتے ہی نماز کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ مسجد میں داخل ہوتے وقت داخلے کی دعا پڑھنی چاہیے اور مسجد سے باہر نکلتے وقت باہر نکلنے کی دعا پڑھنی چاہیے۔ مسنون طریقے سے وضو کرنا چاہیے اور وضو شروع کرنے سے پہلے اور بعد میں دعا مانگنی چاہیے۔ ہماری پوری کوشش ہونی چاہیے کہ تکبیر اولیٰ یعنی پہلی تکبیر کے ساتھ ہی جماعت میں شریک ہوں۔ بھاگ دوڑ کا عنصر نہیں ہونا چاہیے اور نماز کے دوران پوری توجہ اللہ کی طرف ہونی چاہیے یعنی پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے۔ فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنی چاہیے۔ نماز مکمل کرکے تسبیحات فاطمہ پڑھنا ضروری ہے اور پھر اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگنی چاہیے۔ رسول کریم ﷺ نے فجر اور مغرب کی نماز کے بعد اٹھنے سے پہلے سات بار جہنم سے بچاؤ کی دعا مانگنے کی تاکید کی۔ رسول اکرم ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کی نصیحت کی۔ "اے اللہ تو اپنا ذکر، شکر اور اچھے طریقے سے عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔ آمین”۔

5۔ نماز تراویح:
کتنے ہی لوگ ہیں جو روزہ رکھتے ہیں لیکن نماز نہیں پڑھتے اور بے شمار لوگ ایسے ہیں جو باقی نمازیں پڑھتے ہیں لیکن نماز تراویح نہیں پڑھتے اور بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو آٹھ رکعت تراویح پڑھ کر گھروں کا رُخ کرلیتے ہیں۔ روزہ رکھ کر نماز نہ پڑھنا یا نماز تراویح نہ پڑھنا روزے کو ضائع کرنے والی بات ہے اور آٹھ رکعت تراویح پڑھ کر گھروں کا رُخ کر لینا نماز تراویح کو ضائع کرنے والی بات ہے۔
صرف ایک مہینہ ہے جس میں ہمیں یہ سب کچھ کرنا ہے ہم اس مہینے میں بھی کنی کترانے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ہمارے سرپر کوئی وبال آپڑا ہو اور ہم اس سے جان چھڑاناچاہتے ہوں۔ نماز تراویح کا مقصد یہ ہے کہ ان میں پورا قرآن سنا جائے۔ آٹھ تراویح پڑھ کر چلے جانا لا علمی کا مظہر ہے اور نماز تراویح میں ڈنڈی مارنے کے مترادف ہے۔ نماز تراویح کے دوران ہماری تمام تر توجہ قرآن کے الفاظ پر ہونی چاہیے۔ تب نماز تراویح پڑھنے کا فائدہ ہے ورنہ اٹھک بیٹھک کرنے والا ہی معاملہ ہے۔ تراویح پڑھانے والے حضرات کو چاہیے کہ ہر چار تراویح کے بعد ان میں پڑھی جانے والی آیات کا اُردو میں خلاصہ بیان کریں تاکہ دورہ قرآن کا حقیقی مقصد پورا ہو سکے۔

6۔ تلاوت قرآن مجید:
روزہ رکھنے والے افراد کو رمضان میں قرآن پاک کی بھی تلاوت کرنی چاہیے۔ قرآن مجید کی عربی میں تلاوت کرنا باعث ثواب ہے لیکن تلاوت کا اصل مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والے کو پتہ ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ اس لئے تلاوت کرنے والے حضرات کو کم از کم ماہ رمضان میں قرآن کا ترجمہ بھی پڑھنا چاہیے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ اللہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا حکم دے رہا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کے مطابق عمل کر سکیں۔ ہماری ساری زندگی گزر جاتی ہے اور ہم ایک بار بھی قرآن مجید کا ترجمہ یا تفسیر نہیں پڑھتے۔
روز محشر جب اللہ ہم سے پوچھے گا کہ کیا تم نے قرآن کو پڑھا تھا؟ تو ہم کہیں گے پڑھا تھا اور جب اللہ یہ سوال کرے گا کہ اس میں کیا لکھا تھا؟ پھر ہم اس کو کیا جواب دیں گے؟ اس سوال کا جواب علمائے کرام کو بھی دینا ہو گا کہ انہوں نے عوام الناس کو ترجمہ اورتفسیر کے ساتھ قرآن پڑھنے کی کیوں ترغیب نہ دی؟ ماہ رمضان میں خود بھی ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھیں اور بچوں کو بھی پڑھائیں کیونکہ روز محشر بچوں کے بارے میں بھی جواب دہی کرنا ہو گی۔ اپنے قریبی مسجد کے امام سے ترجمہ قرآن مجید کے متعلق رہنمائی حاصل کریں۔ اگر وہ آپ کو ایسا کرنے سے منع کریں گے تو پھر گناہ ان کے سر ہوگا۔

7۔ جمعہ کا دن:
رسول اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن کثرت سے درُود شریف پڑھنے کی خصوصی ہدایت فرمائی۔ آپ ﷺنے فرمایا ” تمہارے تمام دنوں میں سے زیادہ فضیلت والا دن جمعہ کا دن ہے پس تم اس دن میں مجھ سے کثرت سے درُود بھیجا کرو اس لئے کہ تمہارا درُود مجھے پیش کیا جاتا ہے”۔ (ابوداؤد)۔ ماہ رمضان میں جمعہ کا سارا دن درُود شریف پڑھتے ہوئے گزرنا چاہیے۔ جمعہ کے دن سورۃ کہف کی تلاوت کرنا بھی سنت ہے۔

8- شب قدر کی تلاش:
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ساری رات عبادت کرنی چاہیے اور شب قدر کو تلاش کرنا چاہیے۔ شب قدر کی ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ بہتر ہے۔ اس لئے ہمیں ان راتوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ 355راتوں میں صرف پانچ راتیں تو ہیں جنہیں عبادت میں گزار لیا جائے تو یہ ہماری آخرت کی نجات اور رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ بن جائیں گی۔ جس طرح ہم بہت سے دوسرے معاملات پر تہیہ کرتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرتے ہیں اس طرح اس بار ماہ رمضان کا مہینہ بارے تہیہ کرنا چاہیے کہ اس بار اس مہینہ کی برکتوں اور سعادتوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ایک ایک لمحہ خوف خدا اور یاد الٰہی میں گزاریں گے اور دوزخ سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنے تئیں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے۔ اللہ ہمیں ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔

ماہ رمضان کے معمولات پر رمضان کے بعد بھی عمل جاری رکھنا ضروری ہے کیونکہ رمضان تربیت کا مہینہ ہے اور باقی گیارہ ماہ ان معمولات کو جاری رکھنے کیلئے ہیں۔ آخر میں رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث پڑھ لیں۔ اس حدیث کو حدیث جبرائیل اور "ام الحدیث” بھی کہا جاتا ہے۔ پوری حدیث پڑھنے کے لئے کسی کتاب کا مطالعہ کریں۔ ایک بار حضرت جبرائیل انسان کے حلیہ میں رسول اکرم ﷺ کی محفل میں حاضر ہوئے اور بھر محفل میں صحابہ کرام ؓ کی تربیت کیلئے کچھ سوالات کیے جن کے رسول اکرم ﷺ نے جوابات دئیے۔ ایک سوال یہ کیا کہ احسان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا "احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کر جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے سوا گر تو اسے نہیں دیکھ رہا (تو کم از کم یہ سمجھ کر)” بلاشبہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ (صحیح مسلم)۔
اس حدیث پر عمل کرکے ہی ہم عبادت کا حقیقی مقصد پورا کر سکتے ہیں۔ رمضان ختم ہونے کے بعد شوال کی پہلی رات کو گانے بجانے اور بازاروں میں پھرنے کی بجائے اللہ کی عبادت میں یا پھر سو کر گزارنا چاہیے۔ ماہ رمضان میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے علاوہ صدقہ و خیرات کے معاملے میں بھی فراخدلی کا مظاہر ہ کیجئے۔