غیرقانونی کام کرنے سے منع کرنے پر میر جعفر ، میرصادق کہا گیا، ڈی جی آئی ایس آئی

راولپنڈی ( نیوز ڈیسک ) – ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم ( Gen. Nadeem Anjum) کا کہنا ہے غیرقانونی کام کرنے سے منع کرنے پر میر جعفر ، میرصادق، جانور اور نیوٹرل کہا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار (Lt. Gen. Babar Iftikhar) کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا اگر سپہ سالار غدار ہے تو بند دروازوں کے پیچھے کیوں ملتے ہیں، چھپ کر ملنا اور دن میں الزامات لگانا یہ دہرا معیار قابل قبول نہیں۔ مارچ میں آرمی چیف کو غیرمعینہ مدت تک توسیع کی پیش کش بھی کی گئی۔ سیاست سے دور رہنا فرد واحد کا نہیں ادارے کا فیصلہ تھا۔ جب فتنہ فساد کا خطرہ ہو تو سچ کی خاموشی اچھی نہیں۔

ادھر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ اسلام آباد آنا یا لانگ مارچ کرنا آئینی ہے۔ جو آئین احتجاج کا حق دیتا ہے وہ فرائض کا ذکر بھی کرتا ہے۔ احتجاج سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، کسی کو پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ فوج آئینی حدود میں رہتے ہوئے جو کام کر سکتی ہے وہ کرے گی۔ کسی کو گرفتار کرنا ہماری صوابدید نہیں حکومت کی ہے۔ 11 مارچ کو سائفر کا معاملہ آیا تو سابق وزیراعظم نے کہا کوئی بڑی بات نہیں۔ پھر 27 مارچ کو ایک کاغذ کا ٹکرا لہرایا گیا۔ سائفر کے حوالے سے سفیر کی رائے کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔ ہر چیز کو غداری اور رجیم چینج سے جوڑا گیا۔ آئی ایس آئی کو سائفر سے کسی بھی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ صحافیوں کو ایک مخصوص بیانیہ فیڈ کیا گیا۔ پاکستان اور پاکستان کے اداروں کو دنیا بھر میں بدنام کیا گیا۔ آرمی سے سیاسی مداخلت کی توقع کی گئی جو آئین پاکستان کے خلاف ہے۔ گمراہ کن پروپیگنڈا کے باوجود آرمی چیف نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ہر ممکن کوشش کی کہ سیاستدان آپس میں بیٹھ کر معاملات حل کریں مگر ایسا نہ ہو سکا۔

انہوں نے کہا ارشد شریف کی وفات پر اداروں، لیڈرشپ اور آرمی چیف پر بے بنیاد الزام تراشی کی گئی۔ قتل کے محرکات تک پہنچنا ضروری ہے۔ کے پی حکومت نے ارشد شریف کیلئے سکیورٹی تھریٹ جاری کیا جس پر انکو ملک چھوڑنے کے مشورے دیئے گئے۔ ارشد شریف کو کس نے یقین دلایا کہ کینیا میں انکی جان محفوظ ہے، ہمیں انکوائری کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ سلمان اقبال کو پاکستان لا کر شامل تفتیش کرنا چاہئے۔ ہم کمزور ہو سکتے ہیں لیکن غدار اور سازشی نہیں ۔ ماضی میں غلطیاں ہوئیں تو 20 سال سے قربانیاں دے کر انہیں دھو رہے ہیں۔

مزیدخبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ ہمارخور وزٹ کریں۔