درود شریف۔ توشۂ آخرت

ڈاکٹر فرخ شہزاد

خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس نوع انسانی کیلئے رشد و ہدایت کا منبع ہے۔ کسی بھی مسلمان کا اس ذات اقدس سے حقیقی طور پر وابستہ ہو جانا اس کی اُخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ آپﷺ کا اسوۂ حسنہ سو فیصد نمونہ حیات ہے۔ خاتم النبیینﷺ نے اپنی زندگی کا نمونہ پیش کرکے مسلمانوں کو بتا دیا کہ کس طرح زندگی گزارنی ہے۔ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا کوئی شعبہ بھی ایسا نہیں جس کی بابت خاتم النبیینﷺ نے مکمل ہدایت نہ دی ہو۔ گویا اگر ہم اپنی دنیا و آخرت سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں خاتم النبیینﷺ کے نمونہ حیات کو سامنے رکھ کر انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنی ہو گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر مسلمان سیر ت النبیﷺ اوراحادیث نبویؐ کا مکمل مطالعہ کرے۔

آپ ﷺ کی ذات اقدس کی بابت دوسرا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ آپﷺ کے ذکر مبارک کو جسے درودشریف کا نام دیا گیا ہے اُخروی نجات کے حصول کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ گویا اگر ہماری زبان بھی خاتم النبیینﷺ کی ذات سے وابستہ ہو جائے تو ہم پر دنیا میں بھی اللہ کی رحمتیں نازل ہو ں گی اور روز محشرہمیں آپ ﷺ کی رفاقت کا شرف حاصل ہو سکتا ہے۔ اس ذکر کی فضیلت کا اندازہ یوں لگائیں کہ اللہ تعالیٰ خود یہ عمل کر رہا ہے اور اس نے فرشتوں کو بھی یہ عمل کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اپنے نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود و سلام بھیجا کرو” (سورۃ احزاب آیت۶۵)۔ یوں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھی یہ حکم دیا کہ وہ یہ عمل انجام دیں۔ سوچیں جو عمل اللہ اور اس کے فرشتے کر رہے ہیں اگر مسلمان یہ عمل نہ کریں تووہ کہاں کھڑے ہیں؟ اس عمل کی فضیلت خود خاتم النبیینﷺ نے بھی اپنی احادیث میں بیان کی ہے۔ فرمایا "کثرت سے درود پاک پڑھا کرو۔ یہ تمہاری فکروں کو دورکرنے کیلئے کافی ہے اور تمہاری گناہوں کا کفارہ بھی ہے” (راوی سیدنا عبداللہؓ۔ جامع ترمذی) فرمایا "جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ سبحان و تعالیٰ اس شخص پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے” (راوی حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاصؓ حدیث 1398مسلم)۔ فرمایا "قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ نزدیک وہ شخص ہو گا جس نے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا ہے” (راوی حضرت ابن مسعودؓ۔ ترمذی۔حدیث484)۔ فرمایا "اصل میں بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہواور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے” (راوی حضرت علیؓ۔ ترمذی۔حدیث1404)۔ فرمایا "اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے” (روایت ابوہریرہؓ ترمذی۔ حدیث3546)۔
ہم درود تو پڑھتے ہیں ہمیں اس کا مطلب بھی معلوم ہونا چاہیے۔ قرآن مجید میں جو حکم دیا گیا ہے۔ اس میں "صلوعلیہ” کے الفاظ استعمال ہوئے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کے گرویدہ ہو جاؤ، ان کی مدح و ثناء بیان کرو اور ان کیلئے دُعا کرو۔ فرشتوں کے لئے بھی اس کا یہی مطلب ہے۔ اللہ کی طرف سے نبیؐ پر صلوۃ کا مطلب یہ وہ آپﷺ پربے حد مہربان ہے آپؐ کی تعریف فرماتا ہے اور آپ کے درجات بلند کرتا ہے۔ سلام کیلئے "وسلموا تسلیما” کے الفاظ استعمال ہوئے جس کے معنی ہیں تم انکے حق میں کامل سلامتی کی دعا کرو۔ دل جان سے ان کا ساتھ دو اور ان کے سچے فرمانبردار بن جاؤ۔
جب خاتم النبیینﷺ پر درود پڑھنے کی آیت نازل ہوئی تو صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ سلام کا طریقہ آپ ؐ ہمیں بتا چکے کہ قعدہ یعنی التحیات میں سلام پڑھنا اور ملاقات کے وقت سلام کہنا۔ آپؐ پر درودکا کیا طریقہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے درود ابراہیمی پڑھ کر سنایا (ترمذی۔ حدیث483)۔ یہ افضل ترین درود ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپﷺ نے مختلف درود سکھائے۔ مختصر ترین درود اسطرح ہے "اللھم صلی علی محمد وعلیٰ آل محمد ” گویا ہم ان میں سے کوئی بھی درود پڑھ سکتے ہیں۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کردیا ہے کہ وہ خاتم النبیینﷺ کودرود و سلام کا نذرانہ پیش کریں اور اس میں وقت اور تعداد کی کوئی قید نہیں۔ لہذا ایک مسلمان کے لئے لازم ہے کہ اس سے غفلت نہ برتے اور کثرت سے درود شریف پڑھتا رہے۔ کچھ خاص مواقع ہیں جن میں درود پڑھنا افضل ہے۔ قعدہ میں التحیات کے بعد، ہر دعا سے پہلے اور بعد میں، مسجد میں داخل ہوتے ہوئے، اذان سننے کے بعد، نماز جنازہ میں، گھر میں داخل ہوتے وقت، گناہوں سے توبہ کرتے وقت، جمعہ کے دن، آپﷺ کا نام سنتے اور پڑھتے وقت۔ دعا کے بارے حضرت فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ خاتم النبیینﷺ تشریف فرما تھے کہ ایک نمازی آیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہو ا تو اس نے اس طرح دعا مانگنا شروع کی "اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما” یہ سن کر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا اے نمازی! تو نے عجلت سے کام لیا ہے جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو پہلے اللہ کی حمد و ثنا ء بیان کیا کرجو اس کی شان کے لائق ہے اس کے بعد مجھ پر درود پڑھ کر دعا مانگ۔ پھر ایک اور نمازی آیا اور اس نے نماز ادا کرکے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر درود شریف پڑھ کر دعا مانگی تو حضورﷺ نے فرمایا اے نمازی! تو دعا کر تیری دعا قبول ہو گی (ترمذی۔ ابوداؤد۔ نسائی۔ مشکوۃ1۔ 869/12)۔ جمعہ کے دن کی بابت آپﷺ نے فرمایا "تمہارے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا دن جمعہ کا دن ہے پس تم اس دن میں مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، اس لئے کہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے” (راوی حضرت اویسؓ، ابوداؤ، حدیث1159)۔
اب سوال یہ ہے کہ کس قدر درود شریف پڑھا جائے اس کا جواب خاتم النبیینﷺ نے اپنی اس حدیث میں دیا "حضرت ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریمﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں آپؐ پر کثرت سے درود پاک پڑھنا چاہتا ہوں اب اس کیلئے اور اپنے وظائف کیلئے کتنا وقت مقرر کر وں؟۔ ارشاد فرمایا۔ جتنا تم چاہو۔ عرض کیا۔ چوتھائی۔ فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اور زیادہ کر لو تو تمہارے لئے اور بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا۔ نصف۔ فرمایا جتنا تم چاہو اگر زیادہ کر لو تو یہ تمہارے لئے اور بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا۔ دو تہائی۔ فرمایا جتنا تم چاہو اگر زیادہ کر لو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا تو پھر میں سارا وقت درود پاک ہی کیلئے مقرر کر لوں؟ ارشاد فرمایا۔ ایسا ہو تو وہ تمہارے سارے کاموں کیلئے کافی ہو گا اور تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے (ترمذی۔ مشکوٰۃ868/11)۔ ایک اور جگہ فرمایاجو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے ملائکہ اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہے۔ (ابن ماجہ)۔ درود پاک کے بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں ہم نے چند احادیث بیان کی ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ تو ایک خزانہ ہے رحمتوں کا۔ ایک مسلمان کی مرضی ہے کہ وہ کتنا سمیٹنا چاہتا ہے۔ یہ تو ایک پیمانہ ہے خاتم النبیینﷺ سے محبت کو جانچنے کا۔ جو زیادہ محبت کرتا ہے وہ اُتنا ہی زیادہ درود پڑھے گا۔ یہ تو ایک بہانہ ہے روز محشر رحمت اللعالمینﷺ کا قرب حاصل کرنے کا جس کی جتنی زیادہ خواہش ہو گی وہ اتنا ہی اسے استعمال کرے گا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس عمل کو اللہ اور اس کے فرشتے انجام دے رہے ہیں اور ہمیں اس کے کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ہم اس کی طرف تو جہ نہ دیں تو یہ کتنی بڑی بد قسمتی ہے۔ یہ معمولی سا عمل ہے جس پر کوئی رقم خرچ ہوتی ہے اور نہ توانائی، صرف زبان کو ہلانا ہوتا ہے اور توجہ کو مرکوز کرناہوتا ہے۔ اس کے بدلے میں جو کچھ حاصل ہوتا ہے اس کا اوپر ذکر کر دیا گیا ہے۔ اب یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم وہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں یا محروم رہنا چاہتے ہیں۔
آخر میں ہم ایک لطیف نقطے کی وضاحت کریں۔ اللہ ہمیں حکم دے رہا ہے کہ ہم درود بھیجیں۔ جب ہم درود پڑھتے ہیں تو ہم اُلٹا اللہ سے کہتے ہیں کہ وہ درود بھیجے۔ اس طرح دراصل ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں وہ آپﷺ کے درجات بلند کرے، آپ پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے اور آپ کو مقام محمود تک پہنچائے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ درود پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور یوں ہم سب کو روز محشر رحمت اللعالمینﷺ کی رفاقت نصیب ہو۔ (آمین یا رب العالمین)۔

مزیدخبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ ہم مارخور وزٹ کریں۔