بچوں کا ادب اور نصاب : موجودہ صورتحال اورتقاضے

عثمان وجاہت

حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان نے بچوں کا ادب، ماضی ، حال اور مستقبل کے عنوان سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا ارادہ کیا ۔ یہ کانفرنس اپنے موضوع کے اعتباد سے نہ صرف اہم تھی بلکہ ناگزیر بھی۔ اس کو مختلف اجلاس اور نشتوں میں موضوعاتی اعتبار سے تقسیم کیا گیا تھا۔ گو یہ کانفرنس فی الحال ملتوی کردی گئی ہے لیکن اُمید ہے اس اہم اقدام سے صرفِ نظر نہیں کیا جائے گا اور اس کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔

فاطمہ ثریا بجیا نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ہم نے بہت اچھا ادب تخلیق کیا لیکن بچوں کا ادب تخلیق کرنے میں ہم سے کوتاہی ہوئی ۔ ہم بچوں کے لئے بہتر ادب تخلیق نہ کر سکے۔ یہ ایک باشعور لکھاری اوردانشور کا اعتراف تھا اور حقیقت بھی کچھ یوں ہی ہے۔ نصاب مرتب کرنےوالے ہمارے بڑے اس بارےمیں کیا سوچتے ہیں اور علمی تحقیق میں وہ کہاں پہنچے، سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ نوجوان اور خصوصا اطفال جن کے لیے یہ نصاب لکھا گیا ھے کی ذہنی سطح کیا ہے ۔ مجموعی طور پر کیا اقدار پروان چڑھ رہی ہیں۔ تعلیم اور تعلیمی ادارے تربیت میں کہاں تک کامیاب ہوسکے ۔ کیا تعلیم کا یہ اندازقابلِ عمل بھی ہے یا نہیں ، کیا یہ تعلیم ،تخلیق کیا گیا ادب اور نصاب تفہیم کا ذریعہ ہے یا نہیں۔
موجودہ نصابی اور ادبی صورتحال جاننے کے لئے چند مثالیں دیکھتے ہیں۔
ہم نے کتابوں کی ایک دوکان پر ایک کتاب جس کا نام "بچوں کے لئے سیرۃ النبیﷺ ” تھا دیکھی، چوں کہ ہم بچوں کے لیے لکھی جانے والی کُتب میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ہم نے جھٹ کتاب تھامی اور چند ورق پلٹے۔ ایک صفحے کے اوپر شہ سرخی دیکھی "منافقین کی ہرزہ سرائی” بس یہی دیکھنا تھا کہ طبیعت مکد ر ہوئی کہ بچوں کے لیے لکھی ہوئی کتاب میں اس قدر قدیم اور مشکل الفا ظ ۔ ایسے الفاظ یعنی ہرزہ سرائی سے بچے کی دلچسپی کتاب اور موضوع سے کم ہو جاتی ہے۔ کتاب لکھنے والے صاحب کے نام کے ساتھ گولڈ میڈلسٹ بھی لکھا ہوا تھا ۔
اب ایک اور مثال ملاحظہ ہو کہ اپنے صاحبزادے کی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی اسلامیات کی کتاب دیکھی ۔ آخرت کی تعریف اس قدر تکنیکی تھی جس میں آخرت کے تصور کو سمجھانے سے زیادہ برزخ ثابت کرنا مقصود معلوم ہوتا تھا۔ سادہ سی بات تھی جماعت چہارم کے بچے کی ذہنی سطح کی مطابق تعریف لکھنی چاہیے تھی۔ کتاب کے مرتبین کے نام دیکھےتواس میں چند پی ایچ ڈی ڈاکٹر صاحبان شامل تھے ۔ جنھوں نے اپنے مطابق متن مرتب کیا نہ کہ طالبِ علم کے اعتبار سے۔ آخرت کے تصور کی تفہیم اور مقصد دونوں ہی پیچھے رہ گئے۔
اب اردو زبان و ادب کی حالت مزید دیکھنے کے لئے میٹرک کی اردو کی کتاب دیکھی اور وہ بھی یوں کہ میرا بیٹا میر کی غزل کے اشعار کی تشریح کے لئے مدد چاہتا تھا ۔ اس میں یہ اشعار تھے۔
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میر ، ان نیم باز آنکھوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری مستی شراب کی سی ہے

میر بڑے شاعر ہیں لیکن نوجوانوں کواور خصوصاً سکول کے نوجوانوں کو محبوب کے لب و رخسار کی نازکی اور لالی پڑھانے سے ہم کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، کون سا سبق ہے اس میں؟ اس عمر میں حب بچے اور بچی کو یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ محبوب کے لب نازک ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی خاتون استاد کسی بھی سکول میں لڑکے یا لڑکیوں کو یہ اشعار پڑھاتی ہوں گی تو کیا مطلب بتاتی ہوں گی۔
مقطع تو ایسا شاندار کہ کیا کہنے۔ پہلے بچے کو سمجھاءو شراب کیا ہوتی ہے، اس سے ہونے والا نشہ کیا ہوتا ہے۔ شراب کی مستی اور خمار کیا ہوتا ہے۔ اور کمال بات کہ نیم باز آنکھیں کیا ہوتی ہیں۔ مجھے یہ سب کچھ پڑھاتے اور بیان کرتے ہوئے بہت عجیب محسوس ہوا۔ ہمارے صاحبزادے نے بھی اچھا محسوس نہ کیا بلکہ میر سے متعلق ایک خاموش لیکن منفی رائے قائم کرلی۔ عموماً پبلک سکولوں میں اردو خواتین اساتذہ پڑھاتی ہیں اور وہ کس انداز سے ان اشعار کی تشریح بیان کرتی ہوں گی، یقیناً مشکل کام ہے۔
ان تمام مثالوں سے ہم یہ توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ یہ انعام یافتہ کتابیں جو نصاب میں شامل ہوءیں جن میں جا بجا ادب پارے موجود ہیں۔۔۔ بچوں کی عمر، ان کی ذہنی سطح اور نفسیاتی ضرورتوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں، بلکہ ہیجان کا باعث ہیں۔
ہم اپنے بچوں کے سکول میں ایک رزلٹ ڈے پر گئے ہوئے تھے کہ ایک بچے کا پرچہ دیکھا جو جماعت دوم کا طالبِ علم تھا اور اسلامیات میں اس کے نمبر بہت کم آئے تھے۔ بچے کے والد بہت معقول آدمی معلوم ہوتے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بچہ نبی ، رسول اور پیغمبر کے الفاظ میں کنفیوز ہوگیا ، وہ ان تمام کو مختلف سمجھتا رہا۔ یہاں کتاب مرتب کرنے والے کو یہ الفاظ جماعت کی اعتبار سے لکھنے چاہیے تھے یا پہلے ان کی تعریف بیان ہوجاتی۔
المختصرمندرجہ بالا نکات کے علاوہ ماحول اور معاشرے میں ہونے والی تبدیلی کا لحاظ بھی رکھنا ضروری ہے۔ اب بیڑے کا نہیں جہاز کا زمانہ ہے۔ قاصد کی جگہ ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔ اردو کا بچوں کے لئے کوئی بھی ادب تخلیق کرتے ہوئے نئے اور آسان الفاظ کی طرف توجہ دینی ضروری ہے۔
کمپیوٹر کے کورسز میں اردو زبان کے استعمال کا طریقہ سکھایا جانا چاہئے ۔ اب بہت سے سافٹ وئر میں اردو بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ بہت بنیادی اردو کے جملے بچوں کو لکھنے سکھانے چاییں تاکہ اردو غیر ترقی یافتہ زبان کے طور پرطالبِ علم کے ذہن میں نہ رہے اور وہ اس کو مجبوراً نہ پڑھے۔
جامعات میں جو بھی تحقیق ہورہی ہے اس میں ضروری ہو کہ جامعات نئے دور کے آلات ، اشیاء اور علوم کے آسان اردو نام تجویز کریں ۔ اردو میں الفاظ کا ذخیرہ جوعام فہم ہو، شامل کیا جائے۔ ہر جگہ ترجمہ ضروری نہیں، انٹرنیٹ کو انٹرنیٹ ہی لکھ دیا جائے تو برا نہیں۔
قصہ اور کہانی بچوں کو سکھانے اور کوئی بات ذہن نشین کروانے کا بہترین طریقہ رہا ہے۔ صدیوں سے ہماری دادی نانی اسی طریقے سے تربیت کرتی آئی ہیں۔ کہانیوں اور قصوں میں جدید اور موجودہ دور کی عکاسی کی جائے تاکہ طالبِ علم اور اطفال اس کو سمجھ سکیں اور یاد رکھ سکیں۔
اردو میں اظہاارِ رائے کے لئے اردو میں تحریری مقابلے، مضمون نویسی اور تقریر کے رجحان کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مکالمہ ، مباحثہ اور مذاکرہ میں بتدریج فرق بتانے کی ضرورت ہے۔
موجودہ نصاب میں مزاح کے جو مضامین شامل کئے گئے اُن میں مزاح کے ساتھ ساتھ طنز جھلکتا ہے، جو کہ غیر معیاری بات ہے۔
بچوں کے ادب کی تدوین اور تصنیف و تالیف میں تخصیص کے ساتھ ڈگری کی ضرورت ہے ۔ بچے کی عمر اور مزاج و نفسیات سے مطابقت بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ جدید تعلیم یافتہ ماہر نفسیات بچوں کے ادب کو پڑھیں اوراُن کی رائے کے بعد نصاب اور کسی ادبی تخلیق کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا جائے ۔ یہ سب بہت اہم اور ضروری ہے ورنہ ہم بچوں کی ذہنی ترقی اور تربیت کی ذمہ داری کا فرض ادا نہ کرسکیں گے۔
بچوں میں خود کشی کے رجحانات بھی بڑھ چکے ہیں جس پر توجہ بہت ضروری ہے۔ نوجوان بچے اور بچیوں میں اضطراب اور بے چینی کے عوامل زیر غور رکھ کر نصاب اور بچوں کا ادب تخلیق کرنا از بس ضروری ھے۔

یہ ایک پاکستانی والدکی راے ھے، جو ضروری نہیں ہے کہ حتمی ہو لیکن توجہ طلب ہے۔