تختِ پنجاب کیلئے بڑا انتخابی دنگل شروع .

پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ آج ہوگی، 175 امیدواروں میں مقابلہ ہوگا، ن لیگ اور تحریک انصاف کی مقبولیت کا امتحان ہوگا۔

مسلم لیگ ن کو وزارت اعلیٰ برقرار رکھنے کے لیے مزید 9 نشستوں کی ضرورت ہے، پی ٹی آئی مزید 13 نشستوں کی خواہش مند ہے۔

پی پی 158 میں ن لیگ کے رانا احسن شرافت اور پی ٹی آئی کے اکرم عثمان کا مقابلہ ہوگا، پی پی 167 میں ن لیگ کے نذیر چوہان پی ٹی آئی کے شبیر گجر کے مدِ مقابل ہیں، پی پی 168 میں ن لیگ کے اسد کھوکھر کا پی ٹی آئی کے نواز اعوان سے ٹاکرا ہے، پی پی 170 میں ن لیگ کے امین ذوالقرنین پی ٹی آئی کے ظہیر کھوکھر سے دو بدو ہوں گے۔

ملتان میں پی ٹی آئی کے زین قریشی اور مسلم لیگ ن کے سلمان نعیم آمنے سامنے ہیں، پیپلز پارٹی نے بھی اپنا پورا وزن مسلم لیگ ن کے پلڑے میں ڈال دیا، کہوٹہ، بھکر، خوشاب، مظفر گڑھ، ڈیرا غازی خان اور ساہیوال میں بھی ٹکر کے مقابلے متوقع ہیں۔

’بیلٹ پیپرز کی ترسیل ریٹرننگ افسران تک کردی گئی‘
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بیلٹ پیپرز کی ترسیل ریٹرننگ افسران تک کردی گئی ہے، آج الیکشن مٹیریل ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے پریذائیڈنگ افسران کے حوالے کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ پولنگ کا مواد سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچایا جائے گا، پولنگ اسٹیشنوں پر پولیس کے جوان تعینات ہوں گے، جبکہ رینجرز حلقوں میں گشت کرے گی، آرمی اسٹینڈ بائی پوزیشن پر ہوگی۔

لاہور کے 4 حلقوں میں ضمنی الیکشن
لاہور کے 4 حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوگا، پی پی 158 میں 251 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں، پی پی 167 میں 140 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں، جبکہ پی پی 170 میں 78 پولنگ اسٹیشن ہیں۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید 3 دن لاہور کیمپ آفس میں بیٹھیں گے، ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے پولنگ سامان ایشو کردیا گیا، پولیس کی نگرانی میں سامان پولنگ اسٹیشنز میں پہنچایا جائے گا۔