عدالت شہباز کو پابند کرسکتی ہے کہ نواز شریف کو لایا جائے، شہزاد اکبر

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نواز شریف ملک دشمن عناصر سے ملاقات کرسکتے ہیں تو واپس کیوں نہیں آسکتے، عدالت شہباز شریف کو پابند کرسکتی ہے کہ نواز شریف کو لایا جائے، توہین عدالت کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

شہزاد اکبر نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ مشیرداخلہ و احتساب کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ پر شہباز شریف کی درخواستیں مسترد ہوگئیں اب ان کوجواب دینے ہیں، شہباز شریف عدالت سے نکل کر ٹوپی گھمانے کی کوشش کرتے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب نے کہا کہ نظام میں کمزوری ہے لیکن کیس بہت مضبوط ہیں، حریم شاہ کے معاملے پر بھی انکوائری چل رہی ہے، برطانوی ایجنسی سے بھی یہ ویڈیو شیئر کی گئی ہے، منی لانڈرنگ پر مذاق نہیں بنتا۔

شہزاد اکبر نے کہاکہ برطانیہ میں مقیم نواز شریف نے خود کو صرف پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کرنا ہے، انہیں عزت و احترام کے ساتھ واپس لائیں گے، شوگر ملز کیس کے دوران رمضان شوگرملز میں منی لانڈرنگ کا پتہ چلا، شہباز شریف منی لانڈرر ہیں یہ بات طے ہے، شہباز شریف نے جتنی درخواستیں دیں سب مسترد ہوئیں، شہباز شریف اور ان کے کسی ترجمان نے سوالوں کے جواب نہیں دیے، ان کا ایک مؤقف ہے کہ کاروبار کا معاملہ ان کے بچوں سے پوچھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب شہباز شریف وزیراعلیٰ ہوتے ہیں بچوں کا کاروبار دن رات ترقی کرتا ہے، جب آپ وزیراعلیٰ نہیں ہوتے آپ کے بچوں کا کاروبار بھی نہیں بڑھتا، آپ کے بچوں نے محنت کرکے رمضان شوگر مل نہیں بنائی، شہباز شریف کے ہوتے ہوئے رمضان شوگر مل بنائی گئی۔

ان اکاکہنا تھا کہ میں ہاؤس آف شریف میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں، کیونکہ ہر ہفتے قیادتی گھوڑا بدل جاتا ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ بے نامی اکاؤنٹ ہولڈر ان کے ملازمین تھے، بینکرز کے رول پر ایف آئی اے نے رپورٹ اسٹیٹ بینک کو پیش کر دی، ایف آئی اے سمجھتا ہے کہ بینکرز کا کردار بطور ریگولیٹری تھا، بینکرز کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے، اسٹیٹ بینک اپنی ریگولیٹری پالیسی کے تحت کارروائی کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد یہ کیس ایف آئی اے کا بنا، رمضان شوگر ملز کے ریکارڈ سے خفیہ اور بے نامی اکاؤنٹس سامنے آئے، شہباز شریف اور ان کے مہنگے ترین وکلا آج ناکام ہو گئے، شہباز شریف کی کوشش ہے کہ معاملے کو خراب کریں۔

مشیر برائے احتساب کا کہنا تھا کہ آپ چیف منسٹر تھے اس لیے بینک آپ سے نہیں پوچھ سکتے تھے، بتایا جائے اورنگزیب بٹ کا معاملہ کیا ہے، کئی گھنٹے بھاشن دینے والے بتائیں رقم اکاؤنٹ میں کیسے آئی۔

کابینہ یا پارلیمانی پارٹی میں اختلاف رائے ہوتا ہے لیکن کبھی بات نہیں بڑھی،پرویز خٹک کے معاملے پر مس رپورٹنگ ہوئی ہے۔

نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سوال پر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے بھائی کی ضمانت دی لیکن عدالتی حکم کی پاسداری نہیں کی، نواز شریف نے آج تک اپنی میڈیکل رپورٹس جمع نہیں کرائی، نواز شریف نے صرف ایک میڈیکل لیٹر جمع کرایا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا کیا علاج ہوا کچھ نہیں بتایا گیا، نواز شریف کے معاملے پر شہباز شریف پر توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے، عدالت شہباز شریف کو پابند کر سکتی ہے کہ نواز شریف کو لایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ملک دشمن عناصر سے ملاقات کر سکتے ہیں تو واپس کیوں نہیں آسکتے، انہوں نے صرف خود کو ہائی کمیشن کے حوالےکرنا ہے، انھیں عزت اور احترام سے وطن واپس لائیں گے۔

شہزاد اکبر کا کہناتھا کہ بلاول غیر سنجیدہ کریکٹر ہیں جس کا جواب دینا مناسب نہیں،حریم شاہ پر ایف آئی اے نے نوٹس لیا ہے اور انکوائری شروع کی ہے، اس کے علاوہ سلمان شہباز کا برطانیہ میں کیا اسٹیٹس ہے یہ بڑا اہم سوال ہے۔