علی ظفر جنسی ہراسانی کیس سے متعلق حقائق سامنے لے آئے

پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف ورسٹائل گلوکار و اداکار علی ظفر(Ali Zafar) نے جنسی ہراسانی کیس کے تنازع سے متعلق بات کرتے ہوئے پرستاروں کی کشمکش کو دور کر دیا۔نجی ٹی وی کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں علی ظفر سے پوچھا گیا کہ پرستاروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اس بات سے لاعلم ہے کہ آپ کے کیس کا کیا ہوا؟ کس کے حق میں فیصلہ آیا؟

گلوکار نے ملکی انصاف کے نظام سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے میری ایک دوست سے بات ہوئی، انہیں میں نے اپنی کہانی سنائی تو انہوں نے مجھے یہ ہی مشورہ دیا کہ مجھے یہ پہلے ہی سب کے سامنے لانا چاہئے تھا، لیکن میں چاہتا تھا کہ سب کچھ قانونی طریقے سے ہو جس کے لیے مجھے 5 سال تک انتظار کرنا پڑا اور میں اب بھی انصاف کا منتظر ہوں۔

انہوں نے مختصراً اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ بیشتر لوگ جو تمام حقائق سے آگاہ ہیں کہ ایک بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ ایک اور آرٹسٹ کی جگہ مجھے سے معاہدہ طے پا گیا تو مجھے مختلف جعلی اکاؤنٹس سے بدنام کرنے کی کوششوں کا آغاز ہو گیا، لیکن میں نے اس وقت اس پر دھیان نہیں دیا پھر مجھے براہِ راست دھمکی موصول ہوئی کہ میں نے معاہدہ ختم نہیں کیا تو مجھ پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا جائے گا۔

علی ظفر(Ali Zafar) نے بتایا کہ چونکہ موسیقی میرا ذریعۂ معاش ہے اور میں یہ نہیں چھوڑ سکتا تھا اس لیے میں نے معاہدہ ختم نہیں کیا اور جس دن میری شوٹنگ تھی اس سے ایک روز قبل وہ ٹوئٹ سامنے آیا جس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی۔

میزبان نے تاحال ہتکِ عزت کیس اختتام کو نہ پہنچنے کی وجہ معلوم کی جس پر گلوکار نے بتایا کہ یہ حقیقت میں میری اپنی رائے نہیں ہے بلکہ میں 5 برس سے انتظار کر رہا ہوں کہ گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع عدالت میں آ کر جرح مکمل کر وادیں تاکہ منصفانہ فیصلہ ہو سکے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کون حق پر ہے اور کون نہیں یہ جاننے کے لیے آسان سا اصول بتاتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ جو عدالت سے انصاف کی درخواست کرتا ہے اور عدالت میں ہر بار پیش ہوتا ہے وہ حق پر ہوتا ہے اور جو عدالت سے بھاگتا ہے وہ غلطی پر ہے، باقی سب سمجھ دار ہیں۔

مزیدخبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ ہم مارخور وزٹ کریں۔