نواز شریف کی العزیزیہ، ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کےخلاف اپیلوں پر سماعت ملتوی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز (AlAzizia and Avonfield References)‌ میں سابق وزیراعظم و سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت بدھ (29 نومبر) تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ سماعت کی، سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئے۔

نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز پیش ہوئے، امجد پرویز نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر دلائل کا آغاز کیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہ جو حقائق آپ نے دیئے ہیں کیا یہ ریفرنس دائری سے پہلے کے ہیں؟ امجد پرویز نے جواب دیا کہ 3 حقائق ریفرنس سے پہلے کے ہیں، باقی بعد کے ہیں۔

امجد پرویز نے 20 اپریل 2017 کے سپریم کورٹ کے پانامہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی پر پانامہ جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی، 2017 میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔

امجد پرویز نے عدالت کو جے آئی ٹی کی تشکیل اور اراکین کے حوالے سے آگاہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا اس کا کوئی اسکوپ ہے؟ امجد پرویز نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل اپنی معاونت کے لیے دی تھی، جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ 10 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔

امجد پرویز نے عدالت کو مزید بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ 12 والیمز پر مشتمل تھی، جے آئی ٹی کی رپورٹ جمع ہونے کے بعد فریقین کو دلائل کے لیے بلایا گیا، دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد پاناما کیس کا حتمی حکم نامہ 28 جولائی 2017 کو جاری ہوا، حکم نامے کے مطابق نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا۔

جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر کیا احکامات جاری کیے تھے؟ کیا سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو کوئی احکامات جاری کیے تھے؟ جس پر امجد پرویز نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو مثبت احکام دیے کہ نواز شریف کے خلاف ریفرنسز دائر کیے جائیں۔

وکیل نواز شریف نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس (AlAzizia and Avonfield References)‌ دائر کرنے کا حکم دیا تھا، نواز شریف، حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف سپریم کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

امجد پرویز نے عدالت کو مزید بتایا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف، حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا، سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق نیب نئے شواہد سامنے آنے پر ضمنی ریفرنس بھی دائر کر سکتا ہے۔

مزیدخبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ ہم مارخور وزٹ کریں۔