پنجاب میں نمونیہ کی صورتحال تاحال سنگین، مزید 7 بچے جاں بحق

پنجاب بھر میں سموگ اور خشک سردی سے نمونیہ کیسز میں اضافہ جاری ہے ، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبے میں نمونیہ کے مزید 320 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ 7بچے دم توڑگئے ۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں نمونیہ سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک بچہ انتقال کرگیا جبکہ 180 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔

لاہور میں نمونیہ کے مجموعی کیسز کی تعداد 3020 جبکہ پنجاب میں مجموعی طور پر 13460 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

پنجاب بھر میں نمونیہ سے جاں بحق بچوں کی تعداد 298 تک پہنچ گئی ہے جبکہ لاہور کے ہسپتالوں میں نمونیہ ،چیسٹ انفیکشن اور وائرل انفیکشن کے سیکڑوں بچے زیر علاج ہیں ۔

اس حوالے سے ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نمونیا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجہ رواں سال موسمِ سرما میں فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی سموگ بھی ہے۔

نمونیہ پھیپھڑوں کے اندر انفیکشن کو کہا جاتا ہے، نمونیہ کے زیادہ تر کیس وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں اور یہ نزلہ و زکام کی علامات کے بعد ظاہر ہو سکتا ہے ، نمونیہ ہلکا یا سنگین ہو سکتا ہے، عام طور پر 5 سال یا اس سے کم عمر کے بچوں میں زیادہ عام ہوتا ہے۔