تحفظ ناموس رسالت۔ ایک ملک گیر فورم کی ضرورت

ڈاکٹر فرخ شہزاد

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اکرم خاتم النببین حضرت محمد ﷺ نے فرمایا "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کی نظر میں اس کے والدین و اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں”۔ یہ حدیث ایک پیمانہ ہے جس کے ذریعے سے کسی مسلمان کی رسول اکرم ﷺ کی ذات اقدس سے محبت کو ناپا یا تو لا جا سکتاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میں سے ہرشخص محبت کا دعویدار ہے لیکن کتنے مسلمان ہیں جنہوں نے کبھی یہ سوچا کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے مقرر کردہ معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں اور یوں ان کا ایمان کامل کا دعویٰ سچا ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ رسول اکرم ﷺ کو اپنے والدین اور اپنی اولاد سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ زبان اور دل سے محبت کرنے کے علاوہ یہ بھی پرکھا جاتا ہے کہ حب رسول ﷺ کا دعویٰ کرنے والا کس قدر اتباع رسولﷺ پرعمل پیرا ہے۔ اگر ہم اسوۂ حسنہ ﷺ کامطالعہ کریں گے تب ہی ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم اس پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔
آپﷺ کی ذات سے محبت کی عکاسی اس وقت بھی ہو جاتی ہے جب کوئی غیر مسلم آپؐ کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ یہ خبریں سن کر محبت کے دعویداروں کو ماتھے پر بل پڑتا ہے، نہ وہ بے چین و بے قرار ہوتے ہیں، نہ ان کی نیند متاثر ہوتی ہے، نہ ان کے معمولات پرکوئی فرق پڑتا ہے۔ محبت کے دعویدار نے کبھی سوچا کہ اگر کوئی اس کے والدین یا بچوں کے ساتھ یہ رویہ اپنائے توکیا وہ رات کو سکون کی نیند سو سکے گا؟ یہاں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے مقررکردہ معیار پر پورا نہیں اتر رہا۔ پس لازم ہے کہ شاتم رسولؐ گستاخی کرے تو ہر مسلمان اپنے دل پر چوٹ محسوس کرے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس چوٹ کا ردعمل کیا ہوناچاہیے؟ کیا ہر مسلمان ہاتھ میں ہتھیار اٹھا کرشاتم رسول کے بیخ کنی پر چل نکلے۔ نہیں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کے منافی ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کچھ لوگ اس بارے جذبات سے اس قدر مغلوب ہو جاتے ہیں کہ وہ شاتم رسول ؐ کو ٹھکانے لگانے کی ٹھان لیتے ہیں۔ چونکہ پاکستان کے علاوہ کسی بھی ملک کا آئین شاتم رسول ؐکے لئے سزاتجویز نہیں کرتا اور جذبات سے مغلوب انسان جانتا ہے کہ قانون کی گتھیوں میں اُلجھ کر شاتم رسول ؐ کبھی اپنے انجام تک نہ پہنچ سکے گا اس لئے وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کا راستہ اختیار کر لیتا ہے اور شاتم رسول ؐ کو ٹھکانے لگا دیتاہے۔ اسی جذبے کے تحت غازی علم دین شہید نے ہتھیار اٹھایا، جرمنی میں عامر چیمہ شاتم رسول ؐ کے سر پر جا پہنچا، پشاور میں بھری عدالت میں نبوت کے دعویدار کو برے انجام تک پہنچا دیا گیا اور فرانس میں چیچن باشندے نے فرانسیسی استاد کو ٹھکانے لگا دیا۔ یہ راستہ اس لئے بھی اختیار کیا جاتا ہے کیونکہ دوسرے مسلمان خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ اسلئے لازم ہے کہ مسلمان شاتم رسول ؐ سے نفرت کے اظہار کے لئے اجتماعی راستہ اختیار کریں اور دنیا پر یہ واضح کریں کہ رسول اکرم ؐ کی شان میں گستاخی مسلمانوں کے لئے ناقابل قبول ہے اورساری دنیا کو اس معاملے میں کردار ادا کرنا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ وہ دنیا جس نے آزادی اظہار کیلئے مگر مچھ کی طرح منہ کھولا ہوا ہے وہ باز آجائے گی اور یہ پیغام دنیا تک کون پہنچائے گا؟ اسلامی ملکوں کی عالمی تنظیم او آئی سی کی حیثیت تو ایک لاش بے گورو کفن کی سی ہے۔ یہ تو اسی دن مردہ ہو گئی تھی جب شاہ فیصل کو شہید کیا گیا تھا۔ رہ گئی عرب لیگ تو اسے اب "اسرائیل و بھارت لیگ” کا نام دے دینا چاہیے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تاہم ملکی سطح پر تو بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہماری رائے یہ ہے کہ بات قانون ختم نبوت پر نقب زنی کی ہو یا فرانس میں تخلیق کئے گئے خاکوں کی یہ صرف ایک تنظیم کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ایسا کرنے والوں کے خلاف میدان عمل میں اترے اور احتجاج کرے۔ یہ پاکستان میں بسنے والے ہر مسلمان اور تنظیم خواہ وہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ حب رسول ﷺ کا ثبوت پیش کرے۔ اگر ہر کوئی اپنے طور پر احتجاج کرے گا تو یہ ایک منتشر احتجاج ہو گا اور اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو گا۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تحفظ ناموس رسالت ؐکے لئے ایک ملک گیرفورم تشکیل دیا جائے۔ تمام سیاسی و غیر سیاسی تنظیمیں اس فورم کا حصہ بنیں اور پاکستان کا ہر شہری اس کا ممبر بنے۔ یوں ناموس رسالت ؐ کو ایک ملک گیرمحافظ میسر آسکے گا۔
اب اس سوال کا جواب کہ احتجاج کا طریقہ کار کیا بنتا ہے؟ کیا احتجاج کا صرف یہی طریقہ ہے کہ دھرنا دیا جائے یا پتھراؤ کرکے سڑکیں بلاک کی جائیں یا چند لوگ جلوس نکال کر اور شور و غوغا مچاکر اپنے گھروں کو چلے جائیں یا پریس کلب کے سامنے بینر اٹھا کرتصویریں کھینچوائی جائیں۔ یہ طریقے ہر گز اورہر گز قابل قبول نہیں۔ یہ سب
رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کے منافی ہیں۔ آپ ﷺ نے راستے سے پتھر ہٹھانے کا حکم دیا۔ ایسے میں اس بات کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے کہ ہم پتھراؤ کرکے سڑکیں بلاک کریں یا راستے بند کرکے دھرنے دیں۔ ہمارے خیال میں ایسے مواقع پر ملک گیریوم سیاہ منایا جانا چاہیے یعنی اس دن ہر گھر، ہر گاڑی اور ہر موٹر سائیکل پر سیاہ پرچم لہرایا جانا چاہیے اور ہر گلی میں شاتم رسول ﷺ کی مذمت میں بینرز آویزاں کئے جانے چاہییں۔ یوم سیاہ جمعہ کے دن منایا جانا چاہیے۔ اس دن مساجد کے خطیبوں کو اس موضوع پر تقریر کرنی چاہیے اور ملک کے حکمرانوں کو خصوصی پیغامات جاری کرنے چاہییں۔ اگر پورے ملک میں اس طرح سیاہ پرچم اور بینرز آویزاں کیے جائیں تو ساری دنیا کو اور شاتم رسول ؐ تک نفرت کا پیغام پہنچ جائے گا۔ ہمیں ناموس رسالتؐ کیلئے احتجاج کرتے ہوئے رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کو مد نظر رکھنا چاہیے اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو اسلام کیلئے رسوائی کا سبب یا اس سے غیر مسلموں تک کوئی منفی پیغام جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے ہر کافر تک اسلام کا پیغام پہنچایا جائے تاکہ نبوت کا سلسلہ بند ہو جانے کے بعد باقی دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا جو راستہ تقریباً بند ہو چکا ہے وہ کھلارہے۔ ہماری رائے میں طیب اردگان کو فرانس کے صدر سے براہ راست بات چیت کرکے اسے آزادی رائے کی حدود سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ چاہے وہ ماننے سے انکار کردیتا لیکن اس طرح حجت پوری ہو جاتی۔ فرانسیسی صدر کے سر پر شیطان سوار ہے اور جس کے سر پر شیطان سوار ہو جائے اسے کوئی ہدایت کا راستہ نہیں دکھا سکتا۔