سیاسی کھچڑی

تحریر:محمد آصف؛ اسلام آباد
موجودہ معاشی مشکلات، مہنگائی اور افلاس سے تنگ عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کے لیے نام نہاد جمہوری سیاست کے قائدین عوام کی تکالیف میں بھرپور اضافے کا باعث بن چکے ہیں۔۔ ہر ایک کرسی اور اقتدار کو مقصد حیات بنائے ہوئے ہے ۔طاقت، اقتدار اور کرسی کی اس جنگ میں بساط بچھانے والے پاکستان کو ہر طرح سے کمزور ترین کر رہے ہیں۔ ملک و قوم کی سالمیت اولین ترجیح ہو تو کچھ بہتری بھی ہو اور عوام الناس کی زندگی پر سکون بھی ہو’ لیکن یہاں مقاصد صرف کرسی اور اقتدار ہیں۔

ملکی قرضے انتہائی خطرناک حد تک تجاوز کرنے اور ملکی خزانہ ختم ہونے کا سارا بوجھ عوام الناس پہ ڈال دیا گیا ہے۔اشرافیہ ، کاروباری حضرات سیاست دان اور بیوروکریٹس تو اچھی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ غریب اور متوسط طبقہ خود کشی پہ مجبورہوتا جا رہا ہے۔بجلی کی قیمتوں میں 200 فی صد اور گیس کی قیمتوں میں 300فی صد اضافے نے عوام کی زندگی ختم کر دی ہے؛ بنیادی ضروریات زندگی سمیت ہر چیز کی قیمتوں میں بڑھتوری کا طوفان بپاہے۔ارباب اختیار اور ادارے سیاسی کھچڑی بنانے اور کھانے میں مصروف عمل ہیں اور رہی بات عوام کی تو ان کی اکثریت دجالی فتنے (سوشل میڈیا ) پر غیر مصدقہ اور 90 فی صد جھوٹی انفارمیشن آگے پھیلانے اور خود کو سیاست دان ثابت کرنے میں پیش پیش ہے ۔ مزدور ،چپڑاسی نائب قاصد، ریڑھی بان، مکینک جس سے بھی بات کرو ایسے دعوے کرتا نظر آئے گا جیسے ازل سے سب سے بڑا سیاست دان وہ خود ہے اور ملکی حالات کو اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا!

سوشل میڈیا کی ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کے ذریعے کچھ افراد ڈس انفارمیشن اور فیک پوسٹنگ سے پیسہ تو بنا رہے ہیں’ لیکن فیک پوسٹنگ، شئیرنگ اور مواد سے رزق حلال حاصل نہیں ہو سکتا۔ تباہی کے اس گمراہ کن دور میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہے ، ہم اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حلال اور حرام کی پہچان بھول چکے ہیں۔

موجودہ سیاسی کھچڑی میں پیپلز پارٹی کو بلوچستان اور سندھ میں اکثریت حاصل ہو سکتی ہے اور نون لیگ کو پنجاب میں جبکہ پی ٹی آئی کو کسی حد تک اکثریت کے پی میں حاصل ہونے کی توقع ہے ، جبکہ آزاد امیدواروں کو کھچڑی میں تڑکے اور مصالحے کے طور پر کسی بھی وقت استعمال کر کے مرضی کے فیصلے کیے جاسکتے ہیں ۔ واضح حکومت اور اکثریت کسی بھی وقت تبدیل کی جاسکتی ہے تاکہ کوئی بھی سیاسی شخصیت اگر وزیر اعظم بن جائے تو بھی ضروری نہیں کہ چار یا پانچ سال کی مدت پوری کرے؛ اور یہ تلوار سر پہ لٹکتی رہے کہ کسی بھی وقت پانسہ پلٹ دیا جا سکتا ہے اور جیسا 2013 سے ہوتا چلا آرہا ہے،مستقبل میں بھی ایسی ہی سیاسی کھچڑی تیار کر کے عوام کے حقوق پامال کرنے کیلئے پیش کی جائے گی۔نام نہاد جمہوری باری کے تناظر میں اس مرتبہ باری شاید پیپلز پارٹی اور بلاول کو دی جائے گی اور بعد میں شاید نواز اور شہباز کو بھی کچھ موقع دیا جائے۔ پی ٹی آئی کو بھی بالکل صفحہ ہستی سے مٹانے کی بجائے خطرہ بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ کوئی بھی سیاسی پارٹی یہ نا سمجھ بیٹھے کے وہ اقتدار کے ایوانوں میں بھرپور طاقت رکھتی ہے ۔ مارشل لا ء کی سیاست پرانا اور بدنام زمانہ طریقہ تھا اب ادارے بھی مزید بدنامی سے بچنا چاہتے ہیں اور اپنے ہاتھ صاف رکھنا چاہتے ہیں جبکہ عوام اپنی اجتماعی حالت زار کی درستگی کی بجائے انفرادی بقا کی تگ و دو کا شکار ہیں۔

آئیے ہم اجتماعی طور پر سیاسی جذباتیت سے بالا ترہو کر غیر جانبداری سے ملک و قوم اور سلطنت کی بقا کے لئے صف بچائیں’ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں اورمتحد ہوکر ان سیاسی کھلاڑیوں سے ایسی سیاسی بنیاد رکھیں کہ ملک اور قوم کی سالمیت قائم تھے اور ہم خانہ جنگی اور فاقوں سے مرنے کی بجائے خوشحالی کی طرف گامزن ہوں ۔ اپنی زراعت اور مصنوعات پہ توجہ دے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں ۔ہم انفرادی تر قی کے تکبرو جہالت سے نکلیں اور جاپان کی طرح اجتماعی ترقی کی طرف گامزن ہوں ۔نظام عدل کے قیام کی کوشش کریں ۔۔کیوں کہ تباہی در پر ہے سنبھلنے کا یہ آخری موقع ہے ۔۔۔